خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 325
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۵ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۶ء تو اتنا کھٹا ہو گا کہ الامان ، اور پتہ لگے گا کہ جس نے درخت دیا اس نے آپ کو دیانتداری کے ساتھ اچھی قسم کا درخت نہیں دیا۔اس وقت دنیا میں درختوں کا علم اور تجربہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ایسی عمر کے درخت مل جاتے ہیں خصوصاً پت جھڑ کرنے والے جن کو لگانے کے بعد پہلے سال ہی پھل لگ جا تا ہے مثلاً انگلستان کی نرسری چار سال کی عمر کا درخت دے گی اور ساتھ سرٹیفکیٹ ہوگا کہ یہ چار سال کا درخت ہے اور اچھا خاصا بڑا ہوتا ہے اور پہلے سال یعنی اپنی عمر کے لحاظ سے پانچویں سال اس کو پھل لگ جاتا ہے گو اس کے لئے زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں لیکن پھل کھانے کے لئے زیادہ صبر نہیں کرنا پڑتا۔امریکہ اس سے بھی آگے نکل گیا ہے یورپ اور انگلستان کے لوگ امریکہ سے آگے نہیں نکلے لیکن ہم تو ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچے کیونکہ یہاں تو چھوٹے چھوٹے پودے ملتے ہیں ان کو پالنا مشکل ہوتا ہے پھر ان کے پھل کا کئی سال تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔بڑی محنت کرنی پڑتی ہے بعض کمزور ہوتے ہیں وہ مرجاتے ہیں۔آج کی دنیا نے اگر چہ درختوں کے بارہ میں بڑی ترقی کی ہے لیکن وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ مسلمانوں سے آگے نکل گئے ہیں۔سپین میں جب اسلام ترقی پر تھا اور مسلمانوں کو نور فراست حاصل تھا تو انہوں نے باغبانی میں اتنی ترقی کی اور بہت سے ایسے کام کئے کہ اگر چہ دنیا ان سے سبق سیکھنا بھول گئی لیکن وہ آج بھی حیرت انگیز ہیں۔مثلاً انہوں نے بادام یا آلوچہ وغیرہ میں سے کسی ایک پر گلاب کا کامیاب پیوند کیا چنانچہ ان کے باغات میں گلاب کے درخت پائے جاتے تھے۔ہمارے یہاں تو گلاب کے چھوٹے چھوٹے پودے ہوتے ہیں یا بیل اور یہ بھی وہ چیز نہیں لیکن وہاں موٹے موٹے تنوں والے گلاب کے پھولوں سے بھرے، لدے درخت ہوتے تھے۔اسی طرح انہوں نے پیوند کیا بڑے کامیاب طریقے سے اور بڑے اچھے پھل نکالے۔ہندوستان میں ہمارے مغل بادشاہوں نے آم کا درخت لگوایا۔اس کی پت جھڑ نہیں ہوتی اس لئے اس کے لگانے میں یہ آسانی نہیں ہوتی کہ جنوری فروری میں جب یہ درخت سویا ہوا ہو تو ایک جگہ سے اُکھاڑ کر اور اس کی جڑوں سے مٹی وغیرہ جھاڑ کر دوسری جگہ لگا دیا جائے اور مہینے کے بعد وہاں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے اور اس کے شگوفے نکل آئیں۔آم کا درخت ایسا درخت نہیں ہے اس