خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 323
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۳ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۶ء بچے بھی کھا ئیں گے اور بڑا مزا آئے گا پھر پوپلر (Popoer) کا درخت ہے۔دیر ہوئی یہاں ربوہ میں پوپلر کے درخت لگائے گئے تھے لیکن ہم ان کو پال نہیں سکے تھے میں یہ درخت لگانے والوں میں سے نہیں تھا مجھے نہیں علم کہ ہمارا قصور تھا یا اس درخت کو یہاں کی زمین موافق نہیں آئی تھی۔ہم نے احمد نگر میں اپنی زمینوں میں پوپلر کے درخت لگائے تھے وہاں کی زمین اتنی موافق آئی کہ ابھی دو سال کے نہیں ہوئے کہ ان کا قد میں پچیس فٹ اونچا ہو گیا ہے اور کافی موٹے ہو گئے ہیں۔سردیوں میں پت جھڑ کرتے ہیں گرمیوں میں ان کا بڑا اچھا سا یہ ہوتا ہے اور بڑے خوبصورت لگتے ہیں۔تین چار سال کے بعد ان کی لکڑی بھی کام کی ہو جائے گی دس سال کے بعد تو وہ پوری طرح Mature ہو جائیں گے یعنی ان کی لکڑی کچی نہیں رہے گی بلکہ پختہ اور پوری طرح کا رآمد بن جائے گی۔پس ایک تو میں سارے احمدیوں کو کہتا ہوں کہ جس حد تک ممکن ہو وہ درخت لگائیں اور کسی منصوبہ کے ماتحت لگا ئیں۔ملک بھی اور قوم بھی یہی چاہتی ہے۔قوم کا قوم سے مطالبہ ہے کیونکہ حکومت قوم کی نمائندہ ہے اس کی اپنی تو کوئی طاقت نہیں ہوتی اس لئے جب قوم یہ کہتی ہے کہ ہمیں درخت لگانے چاہئیں تو قوم کو درخت لگانے کی طرف توجہ کرنی چاہیے آخر اسے اپنا حکم تو ماننا چاہیے۔دوسرے احمدی کا مقام ایسا ہے کہ اس کا کام دوسروں کے مقابلہ میں نمایاں طور پر اچھا ہوتا ہے یہ خدا کا فضل ہے الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة:۲)۔پس دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نتیجہ میں جماعت کے لئے جو امتیاز اور فرقان پیدا کیا گیا ہے اور حسن عمل ہر احمدی کا طرہ امتیاز ہے وہ ہر معاملہ میں قائم رہے۔ہمارے ہر کام میں ایک حسن پیدا ہونا چاہیے اور ہمارے نزدیک حسن اور نور ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور نو رسوائے اللہ تعالیٰ کے فضل کے اور کہیں سے ملتا نہیں۔اس لئے دوست دعائیں کرتے ہوئے اگر ان کا موں کو بھی نیک نیتی کے ساتھ کریں گے تو ان کو درخت بھی ملیں گے اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا پیار بھی ملے گا کیونکہ الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ اعمال کا تعلق نیتوں پر ہے اگر یہ نہ ہوتا کہ دنیوی حسنات ہمارے لئے أخر وى حسنات کے سامان پیدا کرتیں تو دنیوی حسنات سے ہمیں روک دیا جا تا لیکن اسلام نے