خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 312
خطبات ناصر جلد ششم ۳۱۲ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء اُس پر حملہ کرو۔امیر تیمور کے مرشد بڑے پایہ کے بزرگ تھے۔چنانچہ وہ ظلم کو مٹانے کے لئے اور اپنے مرشد کی ہدایت پر دوسرے ملکوں پر حملے کرتے تھے۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات ہے اصل مسئلہ جو میں اس وقت سمجھانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خود امیر تیمور نے لکھا ہے کہ میرے وقت کے تمام علماء نے لکھ کر فتویٰ دیا ہے کہ میں اس زمانے کا مجد دہوں۔نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے اپنی تزک تیموری میں ایک اور امیر یا بادشاہ کا نام لیا ہے جو اپنے زمانہ کا مجد دتھا صرف اس بات کی تجدید کی کہ نماز میں درود پڑھنا فرض ہے۔دیکھیں انسان کا دماغ کس طرح بہکتا ہے۔اس کے زمانہ میں یہ فتویٰ دے دیا گیا کہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا حرام ہے حالانکہ ہم ہر التحیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں مگر انہوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ درود بھیجنا حرام ہے۔یہ شخص جسے امیر تیمور نے مجد دکہا ہے اپنے دل میں خدا کا خوف رکھتا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار تھا اس کے دل میں، اس لئے اس نے سوچا علماء نے یہ کیا فتویٰ دے دیا ہے چنانچہ اس نے سارے علماء کو اکٹھا کیا اور کہا میرے ساتھ مناظرہ کرو اور مجھے قائل کر وتب میری مملکت میں تمہارا فتویٰ چلے گا۔اس نے مناظرہ کے دوران علماء کو دلائل دے دے کر قائل کیا کہ درود پڑھنا حرام نہیں بلکہ ضروری ہے اور ہر نماز میں ضرور پڑھنا چاہیے چنانچہ امیر تیمور نے لکھا کہ اُن کی صرف یہی تجدید ہے کہ انہوں نے اپنے زمانہ کی اس بدعت کو دور کر دیا اس واسطے وہ اپنے زمانہ کا مجد د ہے۔پس مجدد، مجدد میں فرق ہے کوئی ایک صدی کا مجدد ہوتا ہے کوئی اپنے وقت کا مجدّد ہوتا ہے۔ہر صدی کے مجد دین اپنے اپنے علاقے کے مجدد ہوتے رہے ہیں اور یہ بات بڑی نمایاں ہے۔ہم نے کئی دفعہ سمجھایا ہے ہم سے دور جانے والے لاہور میں بسنے والے غیر مبائعین احمدیوں کو کہ تم کسی ایک مجدد کی مثال دو جس نے اپنے ملک سے باہر مشن کھولے ہوں۔اسلام کی اشاعت یا مسلمانوں کی اصلاح یا بدعات کو دور کرنے کی اندرونی جنگ کے لئے عالمگیر جہاد کیا ہو۔کسی ایک مجد د نے یہ کام نہیں کیا صرف ایک شخص نے کیا جو مہدی معہود ہے۔اسی واسطے شیعوں کی حدیث میں ہے وہ اگر چہ مہدی کو قائم منتظر مانتے ہیں لیکن اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ مہدی علیہ السلام کا