خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 311
خطبات ناصر جلد ششم ٣١١ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء انہوں نے بڑا مطالعہ کیا ہے اور آخر نتیجہ یہ نکالا اور کتنے صحیح نتیجہ پر پہنچے کہ سنت نبوی یہ ہے کہ انسان کو جس قسم کا لباس میتر آئے وہ اُسے پہن لے یعنی اگر اسلام نے ساری دنیا میں پھیلنا ہے اور انتہائی طور پر سر دممالک میں بھی اُس نے جانا ہے اور انتہائی گرم ممالک میں بھی جانا ہے تو اس قسم کی قید و بند کا مطلب یہ ہے کہ بے شک کسی کو سردی لگ جائے بیمار ہو جائے پتلونیں پنڈلی کے وسط سے نیچے نہ جائیں۔یہ تو بالکل نا معقول بات ہے اسلام اس قسم کی نامعقول بات کا حکم نہیں دیتا۔اس واسطے عثمان فودی نے لکھا کہ حالات کے مطابق جس قسم کا کپڑا میٹر آتا ہے وہ پہن لیا جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ میں مسلمان غریب تھا۔لوگ انتہائی غربت کی زندگی گذار رہے تھے اور بڑی قربانیاں دے رہے تھے اب تو ہمیں بہت آسانیاں حاصل ہیں مثلاً میں نے کوٹ پہن رکھا ہے۔دوستوں نے بھی اسی قسم کے گرم کپڑے اور چادریں لی ہوئی ہیں کیونکہ موسم سرد ہے لیکن جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت گھٹنوں سے اوپر اُن کی دھوتیاں ہوا کرتی تھیں۔یہاں تک کہ لوگ جب مسجد میں نماز پڑھتے تھے تو پیچھے سے ننگے ہو جایا کرتے تھے عورتیں پچھلی صف میں نماز پڑھتی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فر ما یا تم سجدہ سے اُس وقت سر اٹھایا کرو جب مرد اُٹھ جایا کریں حالانکہ اصولی طور پر یہ حکم ہے کہ امام کے ساتھ مقندی سجدے سے اُٹھے لیکن عورتوں کو اس کے خلاف یہ حکم دیا کہ تم دیر سے سجدہ سے سر اُٹھاؤ دوسری طرف مردوں کو یہ نہیں کہا کہ تمہیں میسر آئیں یا نہ آئیں لمبی دھوتیاں پہنا کرو۔اس لئے کہ دین اللہ یسر اسلام کے اندر کوئی سختی نہیں ہے۔اسلام انسان کی فراست تیز کرنے کے لئے آیا ہے عقلیں مارنے کے لئے تو اسلام نہیں آیا۔پھر ایک ہی صدی کے دوسرے مجدد ہمارے علم میں آگئے اور وہ تھے امیر تیمور جو اپنے زمانے کے بڑے زبردست بادشاہ بھی ہوئے ہیں گو انگریزوں نے تعصب کی وجہ سے ان کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے لیکن وہ بڑا دیندار اور متقی شخص تھا انگریزوں نے تعصب کی بنا پر اُن پر ظلم وتشدد کے الزامات لگائے ہیں حالانکہ انہوں نے کسی جگہ چڑھائی نہیں کی جب تک ان کے مرشد نہیں کہتے تھے کہ فلاں جگہ کا بادشاہ اپنی رعایا پر ظلم کر رہا ہے تم رعایا کو اس کے ظلم سے بچانے کے لئے