خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 12
خطبات ناصر جلد ششم ۱۲ خطبه جمعه ۱۰ / جنوری ۱۹۷۵ء اسلام نے جو عقائد ہمارے سامنے رکھے اُن میں بہت وسعت ہے۔جیسا کہ ہم نے ان کو حضرت مہدی علیہ السلام کی استدلالی اور تفسیری تعلیم کی روشنی میں پہچانا، ان میں بڑی وسعت ہے مثلاً کسی وقت قضا و قدر بڑا الجھا ہوا مسئلہ تھا لیکن مہدی علیہ السلام نے اس کو اس طرح حل کر دیا اور اس کی وہ ساری می گنجلکیں نکال دیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کو الجھا ہوا کون کہتا تھا لیکن اگر ہم اس مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ بڑوں اور چھوٹوں ، مردوں اور عورتوں کے سامنے بیان نہ کرتے رہیں تو پھر الجھ جائے گا یا مثلاً جنت اور دوزخ کے متعلق اسلامی تعلیم جس میں حقیقی حسن پایا جاتا ہے۔اس حسن کو جس رنگ میں حضرت مہدی علیہ السلام نے ہمارے سامنے رکھا اور وہ ہمارا عقیدہ بن گیا۔اس کے متعلق ہر عمر اور سمجھ کے لحاظ سے جماعت کے سامنے ہمیں مسائل کو پیش کرنا پڑے گا۔یا مثلاً مرنے کے بعد روح کی جو کیفیت یا کیفیات ہوتی ہیں اور جو دوسری زندگی ہے، اُخروی زندگی۔یہ کس قسم کی ہے اور جنت ( بعد از قیامت ) اور اس سے پہلے کے برزخ کا زمانہ وغیر ہ اصطلاحیں استعمال ہو رہی تھیں اور ان کا مطلب اندھیروں میں چھپا ہوا تھا۔اس کو اُس نور نے ظاہر کیا جو حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے حضرت نبی اکرم خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کیا۔اس نور کی روشنی میں ایک عجیب چیز ہمارے سامنے آگئی لیکن یہ حقیقت ہے کہ سارے احمدی تو ان چیزوں کو اس رنگ میں ابھی جانتے نہیں دو وجہ سے۔ایک تو جماعت چھوٹی ہے اور بڑھتی جارہی ہے۔جو نئے ہمارے اندر آ رہے ہیں اُن کو سکھانا پڑے گا۔جماعت چھوٹی ہے اور بڑھتی جارہی ہے اور جو بچے ہمارے جوان ہورہے ہیں اُن کو ہمیں سمجھانا پڑے گا۔دو طرح وسعت پیدا ہو رہی ہے جماعت میں۔اور ذکر ایک بڑی اہم ہدایت ہے۔ہر وقت یہ چیزیں سامنے آنی چاہئیں۔بڑے بڑے ماہر بھی اگر کچھ عرصہ اپنے مہارت والے کاموں سے علیحدہ رہیں تو انگریزی کا محاورہ ہے کہ "I am out of touch" کہ میں تو دیر سے اس چیز کو چھوڑ بیٹھا ہوں۔اس وجہ سے میرے ذہن میں وہ پوری تفاصیل روشن ہو کر نہیں ہیں موجود۔اس کو وہ تسلیم کرتے ہیں اور ہر عقلمند ، دیانت دار انسان کو تسلیم کرنا چاہیے۔جس کا مطلب ہے