خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 278
خطبات ناصر جلد ششم ۲۷۸ خطبه جمعه ۲۶ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء پھر غزوہ احزاب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَا - هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَ زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا - وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا - (الاحزاب: ۱۱ تا ۱۳) ترجمہ:۔(ہاں ! اس وقت کو یاد کرو) جب کہ تمہارے مخالف تمہاری اوپر کی طرف سے بھی (یعنی پہاڑی کی طرف سے بھی) اور نیچے کی طرف سے بھی ( یعنی نشیب کی طرف سے بھی ) آگئے تھے اور جب کہ آنکھیں گھبرا کر ٹیڑھی ہو گئی تھیں اور دل دھڑکتے ہوئے حلق تک آگئے تھے اور تم اللہ کے متعلق مختلف شکوک میں مبتلا ہو گئے تھے۔اس وقت مومن ایک (بڑے) ابتلا میں ڈال دیئے گئے تھے اور سخت ہلا دیئے گئے تھے اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب کہ منافق اور جن لوگوں کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگ گئے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے صرف ایک جھوٹا وعدہ کیا تھا۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ۖ وَ لِلَّهِ خَزَابِنُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَلكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ - يَقُولُونَ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ - (المتفقون : ۸، ۹) ترجمہ :۔یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول کے پاس جو لوگ رہتے ہیں اُن پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ وہ فاقوں سے تنگ آکر ) بھاگ جائیں حالانکہ آسمان اور زمین کے خزانے اللہ کے پاس ہیں لیکن منافق (اس حقیقت کو) سمجھتے نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف کوٹ کر گئے تو جو مدینہ کا سب سے معزز آدمی ہے ( یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول اپنے زعم میں ) وہ مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی کو اس سے نکال دے گا۔(حالانکہ ) اور