خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 276

خطبات ناصر جلد ششم الْمُؤْمِنُونَ - خطبہ جمعہ ۲۶ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِرُكَ فِي الصَّدَقَتِ فَإِنْ أَعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَ إِنْ لَّمْ يُعْطُوا مِنْهَا إِذَاهُمْ يسخطون۔ط وَ مِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أَذْنَّ قُلْ أَذُنٌ خَيْرٍ تَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ الِيمُ - يَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ ۚ وَاللهُ وَرَسُولُةٌ اَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ - رووو وَلَبِنْ سَالَتَهُمْ لَيَقُولُنَ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ آبِاللهِ وَأَيْتِهِ وَ رَسُولِهِ كُنْتُم تستهزءون۔الْمُنْفِقُونَ وَالْمُنْفِقْتُ بَعْضُهُم مِّنْ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ ط b الْمَعْرُونِ وَ يَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا اللهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ هُمُ الْفَسِقُونَ - وَعَدَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ - (التوبة: ۴۸ ، ۵۱،۵۰، ۵۸، ۶۱، ۶۵،۶۲، ۶۷، ۶۸) ترجمہ:۔انہوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ پیدا کرنا ) چاہا تھا اور تیرے لئے حالات کو کئی کئی طرح بدلا تھا یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا فیصلہ ظاہر ہو گیا اور وہ اس فیصلہ کو ناپسند کرتے تھے۔اگر تجھے کوئی فائدہ پہنچے تو اُن کو برا لگتا ہے اور اگر تجھ پر کوئی مصیبت آجائے تو وہ کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی سے اپنے پیش آنے والے دنوں کا انتظام کر لیا تھا اور وہ خوشی کے مارے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔تو ( اُن سے ) کہہ دے ہم کو تو وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے ہمارے لئے مقرر کر چھوڑا ہے وہ ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ پر ہی تو گل رکھیں۔