خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 275
خطبات ناصر جلد ششم ۲۷۵ خطبه جمعه ۲۶ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ان آیات کی میں نے آغاز خطبہ میں تلاوت کی ہے ان کا ترجمہ یہ ہے:۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ امَنَّا بِاللهِ - اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آنے والے دن پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ہرگز ایمان نہیں رکھتے۔وہ اللہ کو اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں مگر ( واقعہ میں ) وہ اپنے سوا کسی کو دھوکا نہیں دیتے لیکن وہ سمجھتے نہیں۔اُن کے دلوں میں ایک بیماری تھی پھر اللہ نے اُن کی بیماری کو (اور بھی) بڑھا دیا اور انہیں ایک درد ناک عذاب پہنچ رہا ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔اور جب اُن سے کہا جائے ( کہ ) زمین میں فساد نہ کرو (فتنہ نہ پیدا کرو ) تو کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔( کان کھول کر سُنو ! یہی لوگ بلا شبہ فساد کرنے والے ہیں۔مگر وہ (اس حقیقت کو ) سمجھتے نہیں اور جب اُنہیں کہا جائے کہ (اسی طرح) ایمان لاؤ جس طرح ( دوسرے مخلص ) لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا ہم (اس طرح) ایمان لائیں جس طرح بیوقوف (لوگ) ایمان لائے ہیں۔یادرکھو! ( یہ جھوٹ بول رہے ہیں) وہ خود ہی بیوقوف ہیں مگر (اس بات کو ) جانتے نہیں۔اور جب وہ اُن لوگوں سے ملیں جو ایمان لائے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو (اس رسول کو ) مانتے ہیں اور جب وہ اپنے سرغنوں سے علیحدگی میں ملیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم یقینا تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف ان مومنوں سے ) ہنسی کر رہے تھے۔اللہ انہیں ( اُن کی ) ہنسی کی سزا دے گا اور انہیں اپنی سرکشیوں میں بہکتے ہوئے چھوڑ دے گا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ تو انہیں دنیوی فائدہ پہنچا اور نہ انہوں نے ہدایت پائی۔“ پھر اللہ تعالیٰ سورۃ توبہ میں فرماتا ہے:۔لَقَدِ ابْتَغُوا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأَمُورَ حَتَّى جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ اَمْرُ اللَّهِ وَهُمُ كرِهُونَ - إِن تُصِبُكَ حَسَنَةٌ تَسُوهُمْ وَإِنْ تُصِبُكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدُ أَخَذْنَا امْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ يَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُونَ - قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلِنَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ