خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 259
خطبات ناصر جلد ششم ۲۵۹ خطبہ جمعہ ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ہوئے ہیں جو صرف اس کے طفیل مل سکتے ہیں اور وہ ہر زمانہ میں اس طور پر ملتے ہیں کہ دنیا کا کوئی اور مذہب یا دنیا کا کوئی اور موقف (میں نے موقف کے بارہ میں بتا دیا ہے کہ اس سے میری کیا مراد ہے ) اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتا۔اسلام کے متعلق یہ دو بنیادی صداقتیں ہیں جو ہمیں بتائی گئی ہیں اور ہم صدق دل سے ان پر ایمان لاتے ہیں۔مگر یہ تھی تمہید اور اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے اور ہر احمدی کو نکالنا چاہیے وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس اکمل اور اتم دین کے جو علوم ہیں ان سے واقفیت ہمارے بڑوں کو، عورتوں کو اور بچوں کو حاصل کرنی چاہیے۔صرف یہ کہ دینا کہ اسلامی تعلیم کے مقابلے میں کوئی اور مذہب ٹھہر نہیں سکتا یا صرف یہ کہ دینا کہ اسلامی تعلیم کے مقابلے میں کمیونزم یا دوسرے اِزم کھڑے نہیں رہ سکتے یہ تو کافی نہیں ہے۔ہمارے ہر بڑے اور چھوٹے ، ہر مرد اور عورت اور ہر جوان اور بچے کو علی وجہ البصیرت اس کا علم ہونا چاہیے کہ یہ بات درست ہے اسلامی تعلیم کی ہر خوبی اس کے سامنے آنی چاہیے۔آج کے کئی مسئلے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے اتنی تفصیل سے ہدایت دی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے مثلاً آج کی دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ Industrial Development (انڈسٹریل ڈویلپمنٹ ) ( یعنی صنعتی ترقی ) سے تعلق رکھتا ہے۔اب دنیا میں کا رخانے بن گئے ، مزدور ا کٹھے ہو گئے اور نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔آج سے پانچ سو سال پہلے نہ اس طرح مزدور ا کٹھے ہوتے تھے اور نہ مسائل پیدا ہوتے تھے مگر قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ اس مسئلہ کی تفصیل میں گیا۔میں نے اسلامی اقتصادیات اور اس کے فلسفہ کے متعلق خطبات دیئے تھے وہ چھپے ہوئے موجود ہیں۔اُن میں مثال کے طور پر میں نے بہت سی آیات کو پیش کیا تھا اور ان کی تفسیر بیان کی تھی چنانچہ میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کی بعض آیات سے یہ استدلال بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ صاحب اختیار ہیں اُن کو کارخانے لگانے کی اجازت کن اصول پر دینی چاہیے۔اسلام نے وہ اصول بتائے ہیں اور تفصیل میں جا کر ہماری رہنمائی کی ہے لیکن یہ جو مختلف ازم ہیں مثلاً کمیونزم ہے اس کا بڑا چرچا ہے بعض دفعہ نو جوان طبقہ بھی تھوڑا سا بہک جاتا ہے کیونکہ اس کو سمجھ نہیں آتی۔اشتراکیوں نے دو اعلان کئے اور بظاہر یہ اعلان بڑے اچھے تھے۔ایک