خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 255

خطبات ناصر جلد ششم ۲۵۵ خطبه جمعه ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء کا جو زمانہ ہے اسی پر بس نہیں کیونکہ زمانے تو اس سے بھی آگے پھیلے ہوئے ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں اور اللہ تعالیٰ کا علم ہر زمانہ کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔پس رب العلمین خدا کی طرف سے یہ کلام نازل ہوا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ قیامت تک ہر زمانہ اور ہر مقام پر خدا تعالیٰ کے مظہر بندے پیدا ہوتے رہیں گے۔اس دعوی کے مطابق ہم نے یہ نظارہ دیکھا کہ جو کہا گیا تھا وہ پورا ہوا چنانچہ قرآن کریم کے اسرار روحانی کو وقت کے تقاضا کے مطابق اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔گویا اس معنی میں ہم ایمان لائے ہیں کہ قرآن کریم اکمل اور اتم تعلیم لایا ہے۔اس تعلیم کے مقابلہ میں ایک تو مذاہب ہیں۔مذاہب کے ساتھ جب ہم اس تعلیم کا موازنہ کریں تو اولاً وہ مذاہب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل دنیا کی طرف آئے تھے اُن کے ساتھ ہمیں اس کا موازنہ کرنا پڑتا ہے لیکن اکمل اور اتم تعلیم کا یہ مطلب نہیں کہ ضمنی طور پر یا نسبتی لحاظ سے اسلامی شریعت پہلے مذاہب کے مقابلہ میں اچھی ہے بلکہ ہر ازم، ہر خیال اور ہر School of Thought کے مقابلہ میں بھی ہر پہلو سے اسلامی تعلیم اکمل اور اتم ہے۔یہ اُن لوگوں کے موقف کے مقابلہ میں بھی اکمل اور اتم ہے جن کا خیال یہ ہے کہ چودہ سو سال پرانی تعلیم آج کے زمانہ کے لئے نہیں ہے لیکن ہر شخص کا کام نہیں ہے کہ وہ اس کو ثابت کرے۔خود قرآن کریم نے اعلان کیا کہ یہ ہر شخص کا کام نہیں ہے بلکہ لا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی رُو سے اسلام کے اندر ایک ایسا نظام قائم کر دیا گیا ہے جس میں مطہرین کے گروہ پیدا ہوتے رہتے ہیں اور اُن کے ذریعہ سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اسلام ہر زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔پس ایک تو ہم اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اس معنی میں کہ اسلام اپنی تعلیم کے لحاظ سے اکمل اور اتم ہے دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں ہی نہیں بلکہ ہر موقف کے مقابلہ میں بھی۔مذہب سے باہر بھی تو ایسے Schools of Thought ایسے اِزم ہیں اور ایسے موقف انسان نے اختیار کئے ہیں اور انہوں نے کہا ہماری عقل ایسے اصول بنائے گی جو ہمارے مسائل حل کرے گی اور ہماری استعدادوں کی ارتقاء کے سامان پیدا کرے گی۔“ دراصل یہ تخیل اور یہ الفاظ جو میں نے