خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 254

خطبات ناصر جلد ششم ۲۵۴ خطبه جمعه ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء ضرورتوں کو کھول کر بیان کر دیتا ہے اس کے آگے دو پہلو بیان کئے۔ایک تفصیل اس معنی میں کہ قرآنِ عظیم کی اس کامل شریعت کے بہت سے علوم بین ہیں ظاہر ہیں یعنی قرآن عظیم ایک معنی سے کتاب مبین ہے اور ایک اس معنی میں تفصیل ہے کہ جو مسائل ابھی انسان کو پیش نہیں آئے اور چھپے ہوئے ہیں اور جن کا تعلق آئندہ زمانوں کے ساتھ ہے۔قرآنِ عظیم کا یہ دعویٰ ہے کہ آنے والے زمانوں میں ان چھپے ہوئے اسرار قرآنی کو ظاہر کرنے کا سامان اللہ تعالیٰ نے اس شریعت میں کیا ہے اور کیا ہے مطہرین کے گروہ کے ذریعہ کیونکہ جب یہ کہا في كتب مكنُونِ (الواقعة: ۷۹) تو ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا لا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعۃ:۸۰) مطہرین کا ایک گروہ پیدا ہوتا رہے گا جو اپنے اپنے وقت میں ، اپنے اپنے زمانہ میں، اپنے اپنے علاقہ میں اُس زمانے اور علاقے کی ضروریات کے لئے اسلامی ہدایت جو اس سے پہلے ظاہر نہیں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر انسان کو سکھائیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا جس سے یہ ثابت ہوگا کہ یہ دعویٰ کہ اسلام اپنی تعلیم کے لحاظ سے ایک مکمل اور اتم مذہب ہے ایک سچا دعوی ہے کیونکہ اس نے کسی زمانہ میں بھی انسان کی ہدایت کو نظر انداز نہیں کیا۔یہ دعویٰ کہ فِي كِتَب مَّكْنُونٍ - لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ سے تصدیق حاصل کرے گا اور اس سے یہ ثابت ہوگا اور یہ پتہ لگے گا کہ یہ قرآن عظیم تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ (الواقعة : ۸۱) ہے۔وہ خدائے واحد ویگا نہ جو رَبُّ الْعَلَمِيْنَ ہے، جو اس یو نیورس، اس عالمین کی ربوبیت کرنے والا ہے، قرآنی تعلیم اُس کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔اس وقت ساری دنیا میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کے سامنے جب مذہب کی بات کی جائے تو کہتے ہیں تم لوگوں نے کیا دقیانوسی باتیں شروع کر دی ہیں زمانہ آگے نکل گیا اور تم قرآنی باتیں کر رہے ہو۔غرض ایسے لوگ کہتے ہیں وہ شریعت جو چودہ سو سال قبل نازل ہوئی تھی وہ ہمارے زمانہ کے مسائل کو کیسے حل کرے گی؟ اگر چودہ سوسال قبل نازل ہونے والی شریعت رب العالمین کی طرف سے نازل نہیں ہوئی تھی تو ان کا یہ اعتراض ، اُن کا یہ دعویٰ اور اُن کا یہ موقف درست ہے لیکن قرآن عظیم نے یہ اعلان کیا کہ میں رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہوں جس کا علم مستقبل پر بھی حاوی ہے۔قیامت تک کا زمانہ تو ایک مختصر سا وقت ہے۔قیامت تک