خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 5
خطبات ناصر جلد ششم خطبه جمعه ۳/ جنوری ۱۹۷۵ء قبول کیا اور جن پر رحمتوں کا نزول ہوا وہاں یہ آنکھ کمزوریوں کو بھی دیکھتی ہے اُن کا جائزہ لیتی اور ان کا محاسبہ بھی کرتی ہے اور مستقبل میں ان کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی اور ہر آنے والی گھڑی کو پہلے سے بہتر بنانے کے سامان پیدا کرتی ہے۔اسی طرح جب یہ آنکھ اپنے نفس میں یا اجتماعی زندگی میں عیب سیکھتی ہے تو مایوسی پیدا نہیں کرتی بلکہ یہ اعلان کرتی ہے:۔لا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر : ۵۴) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا اُمید ہونے کی ضرورت نہیں۔تم دیکھتے نہیں کہ جہاں اتنے عیب اکٹھے ہو گئے ہیں وہاں یہ خوبیاں بھی تو پائی جاتی ہیں اس لئے نگاہ مومنانہ یا مومنانہ فراست سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اُن کے لئے بھی دعائیں کرے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے سامان مانگے جو اللہ تعالیٰ سے دور چلے گئے ہیں۔یہ مومنانہ فراست کی نگاہ نہ ترقیات کے دروازے بند دیکھتی ہے اور نہ مایوسی کے حالات پیدا کرتی ہے بلکہ یہ وہ نگاہ ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے حصول میں وسعت پیدا کرتی ہے لیکن وہ جو خوبیوں کے ساتھ عیبوں کو دیکھنے والی اور عیبوں کو دور کرنے کے لئے کوشش کرنے والی ہے وہ آسمانوں سے نازل ہونے والے فضلوں میں رفعتیں بھی پیدا کرتی ہے کیونکہ وہ ایک جگہ کھڑی نہیں ہو جاتی اور یہ نہیں کہتی کہ جو کچھ حاصل ہونا تھا وہ سب کچھ حاصل ہو گیا۔نیکی ہی نیکی ہے اور کوئی کمزوری نہیں۔اگر کوئی کمزوری نہیں تو اس کا مطلب ہے اس سے زیادہ آگے ترقی نہیں ہو سکتی اگر کمزوری نظر آتی ہے اور اُسے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے تبھی مزید ترقیات کا امکان ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل ہر آن پہلے سے زیادہ نازل ہونے کا امکان ہے۔پس یہ آنکھ محاسبہ کرتی ہے۔یہ آنکھ محروم کی محرومیوں کو دور کرنے کی کوشش ہے۔انہی کوششوں میں ایک چھوٹا سا حصہ وقف جدید کا ہے۔گذشتہ سال وقف جدید کے کام میں قریباً ۲۵ فیصد اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی اتنے تلخی کے زمانہ میں جب کہ توجہ مرکز کی بھی اور جماعتوں کی بھی ایک حد تک بعض ایسے عارضی کاموں اور ضروریات کی طرف تھی جو بظاہر بڑی پریشان کرنے والی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھو کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہماری اس چھوٹی سی کوشش میں بھی جس کا میں اس وقت ذکر کر رہا ہوں کم و بیش ۲۵ فیصد اضافہ ہوا۔میں اس وقت