خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 225
خطبات ناصر جلد ششم ۲۲۵ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۷۵ء کرنے کا ہے اور جتنے پیسے میں نے سوچا تھا کہ ہمیں خرچ کرنے چاہئیں اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا کہ جماعت اس سے زیادہ خرچ کرے۔جتنے میں نے کہا تھا کہ وعدے کرو اس سے چار گنے زیادہ جماعت نے وعدے کر دیئے ہیں۔میں نے کہا تھا اڑھائی کروڑ۔جماعت نے کہا دس کروڑ۔میں نے کہا یہی ٹھیک ہے میں سمجھ گیا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ دس کروڑ خرچ کرو۔دس کروڑ کی ضرورت پڑے گی۔آپ نے وعدے کر دیئے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ بعض وعدے ایسے ہیں کہ اگر وہ ادا نہ ہوں تو کسی پر کوئی الزام نہیں آتا بلکہ وہ ہماری اور دعاؤں کے مستحق ہو جاتے ہیں۔مثلاً میں ایک مثال دے دیتا ہوں جس سے بات واضح ہو جائے گی۔ایک طالب علم جو میڈیکل میں تھر ڈائیر میں پڑھ رہا تھا اس کی کوئی آمد نہیں تھی وہ تو اپنے ماں باپ کا خرچ کروارہا تھا اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر بنوں گا۔یہاں پاکستان میں ڈاکٹر بہت کماتے ہیں اس نے کہا کہ میں احمدی ڈاکٹر بنوں گا۔میں غریبوں کا مفت علاج کروں گا۔میں اتنا نہیں کماؤں گا لیکن پھر ان سے آدھا کمالوں گا اور جتنا کماؤں گا اس کے مطابق اس نے اپنے دماغ میں اندازہ کیا کہ علاوہ اور چندوں کے جو اس نے دینے تھے اور وہ اس کے دماغ میں حاضر تھے اس نے کہا کہ میں اتنی رقم اس منصوبے میں دوں گا یعنی پانچ چھ سال بعد اس کی جو کمائی شروع ہونی ہے جبکہ وہ پاس ہونے کے بعد ڈاکٹر بن جائے گا اس کے مطابق اس نے وعدہ لکھوا دیا اور میں نے کہا تھا کہ وعدے لکھوا دو۔اب اگر اس وقت وہ سیکنڈ ائیر میں تھا تو اب فورتھ ائیر میں ہے۔وہ ابھی چندہ نہیں دے سکتا ابھی تو وہ طالب علم ہے اگر آج وہ نہیں دیتا تو اس کے اوپر کیا الزام ہے۔پس جو ایسے افراد یا ایسے گروہ ہیں ان کے او پر کوئی الزام نہیں۔ان کے لئے تو ہم اور بھی دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی خواہشات اور ان کی توقعات سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کی توفیق عطا کرے لیکن اس وقت میں بڑی عمر کے ان لوگوں سے مخاطب ہوں جنہوں نے اپنی آمد کے مطابق وعدے لکھوائے تھے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں۔غالباً اگلے مارچ میں دوسرا سال ختم ہو رہا ہے وہ اپنے وعدے کے مطابق دو سال کا حصہ ادا کریں۔پاکستان میں بھی اور باہر کے ممالک میں بھی۔انگلستان کو میں اس وقت دوسری یاد دہانی کرا رہا ہوں ایک میں وہاں کروا آیا تھا۔ان