خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 220 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 220

خطبات ناصر جلد ششم ۲۲۰ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۷۵ء بھلائی کے سامان پیدا کر سکتا ہے اس کے بغیر تو نہیں کرسکتا۔لٹریچر کے لئے اب یہاں سے ہمیں کتب وغیرہ باہر بھیجنے میں کچھ دقت پیدا ہورہی ہے جو بھی ذمہ دار ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں سمجھ اور عقل عطا کرے اور ہر پاکستانی کا جوحق ہے اس کی ادائیگی کی انہیں تو فیق عطا کرے لیکن اگر یہاں کچھ عرصہ تک اس قسم کے حالات رہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ جائیں گے اور وہ ذمہ داریاں جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہیں ان کو نظر انداز کر دیں گے اور اپنے کام چھوڑ دیں گے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جب ہم پر ایک دروازہ بند کیا جائے گا تو ہم انتہائی عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور انتہائی عاقلانہ تدبیر کے ساتھ دنیا میں جہاں بھی اس کام کا کوئی دوسرا دروازہ کھل سکتا ہو وہ کھولیں گے اور خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی کی راہ میں کوئی روک قائم نہیں رہنے دیں گے۔ہماری یہ کوششیں ، اگر ہماری دعا ئیں اپنی شرائط کے ساتھ ہوں تو بار آور ہوں گی انشاء اللہ۔اسی لئے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں کیوں کہہ گیا کہ ہمیں بیرونِ پاکستان دو جگہ دو ممالک میں پریس کھولنے پڑیں گے۔اس وقت تو میرے ذہن میں یہ چیز نہیں تھی لیکن حالات نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہادی ہے جو معلم حقیقی ہے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اس کے علم میں تو تھا۔پس جب تک ہم باہر اپنے پریس نہ کھولیں ہم اسلام کی حقانیت میں اور توحید کے ثبوت میں لٹریچر اس تعداد میں شائع نہیں کر سکتے جتنا کہ ہم اپنے مطبع خانے اور اپنے پریس کے ذریعے کر سکتے ہیں کیونکہ دوسرے بہت مہنگا شائع کرتے ہیں انہوں نے اپنے نفعے رکھنے ہیں ، ان کے اپنے معیار ہیں، ان کی اپنی قیمتیں ہیں ، ان کا اپنا طریق کار ہے۔مثلاً ہمیں ایک امریکن فرم نے کہا کہ ہم آپ سے قرآن کریم کے ایک لاکھ انگریزی کے تراجم خریدنے کے لئے تیار ہیں لیکن قیمت کا ۶۰ فیصد ہمارے لئے کمیشن دو۔یعنی اگر قرآن کریم کی دس جلدوں کی قیمت سوروپے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ روپے ہمیں دیں۔ان سے پوچھا کہ اتنا کمیشن ! انہوں نے کہا نہیں سارا ہمارا نہیں ہے وہ تھوک میں بیچنے والے کتب فروش تھے کہنے لگے کہ بیس فی صد ہمارا کمیشن ہے اور چالیس فیصد جو آگے اپنی دکانوں پر رکھیں گے ان کا کمیشن ہے۔وہ کہتے تھے کہ بے شک اس کی