خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 205
خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۵ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء بھی نہیں تھا۔اس واسطے میں امید رکھتا ہوں کہ اس سال ان کا انتظام بھی گزشتہ سال سے بہر حال بہتر ہوگا۔انسان تجربہ سے سیکھتا ہے اور پھر اس کے فعل میں پہلے سے زیادہ حسن پیدا ہوتا ہے۔ہم نے تو ایک لمبے عرصہ کے تجربے کے بعد اپنے جلسہ کے نظام کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فراست اور اللہ تعالیٰ کی آسمانوں سے بارش کی طرح نازل ہونے والی رحمتوں کے نتیجہ میں جلسہ سالانہ کا ایک بڑا ہی اچھا نظام قائم کر دیا ہے۔باہر کی دنیا جو ہم سے واقف نہیں ، وہ نہ تو جلسہ میں شریک ہونے والوں کی ذہنیت اور مزاج سے واقف ہے اور نہ جلسہ سالانہ کا انتظام کرنے والوں کی ذہنیت اور مزاج سے تعارف رکھتی ہے وہ لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ جلسہ سالانہ کا اتنابڑا انتظام کس طرح ہو سکتا ہے۔کئی ایک غیر ملکی عیسائی اور لا مذہب لوگوں سے بات ہوئی ہے کئی ایک نے یہاں آ کر بات کی ہے وہ کہتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے جماعت احمدیہ جلسہ سالانہ پر آرام کے ساتھ اتنی بڑی تعداد کو کھانا کھلا دیتی ہو لنگر سے کھانے والوں کی تعداد روزانہ ۷۰ - ۸۰ ہزار تو ہوتی ہے ( گوجلسہ میں شریک ہونے والے ایک لاکھ سے زیادہ ہوتے ہیں ) یہ ایک چکر ہوتا ہے جس میں کچھ دوست کھانا باہر کھالیتے ہیں۔ان دنوں دوست ایک دوسرے کی دعوتیں بھی کرتے ہیں ہم بھی دعوتیں کرتے ہیں۔ہمارے گھروں میں بھی بہت کھانا پکتا ہے اور دوسرے بہت سے گھروں میں پکتا ہے۔اس کے باوجو دلوگ حیران ہوتے ہیں کہ لنگر ۷۰-۸۰ ہزار آدمیوں کو دو گھنٹوں کے اندر کیسے کھانا کھلا دیتا ہے۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں ہم گپ مارتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم گپ کبھی نہیں مارا کرتے۔ہمیں کوئی سیاسی مصلحت تو سچ بولنے سے نہیں روکتی۔کیونکہ ہم سیاست دان ہیں ہی نہیں۔نہ ہماری کوئی سیاسی مصلحت ہے ہم تو اللہ والے اور درویش لوگ ہیں اور جو حقیقت ہوتی ہے اسے بیان کر دیتے ہیں۔ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کوئی مانتا ہے یا نہیں مانتا مگر حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک واقعہ ہے جو ہورہا ہے جو لوگ جلسہ سالانہ کے انتظام کو دیکھتے ہیں وہ حیران ہو جاتے ہیں۔جہاں تک جلسہ سالانہ پر کام کرنے والوں کی ذہنیت کا سوال ہے وہ تو ایسی ہے کہ دیر ہوئی قادیان کی بات ہے میں اس وقت ابھی بچہ ہی تھا میرا ہم عمر ایک اور بچہ مدرسہ احمدیہ کے