خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 200 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 200

خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۰ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم اگر اس سے بڑھ کر نہیں تو اسی اخلاص سے قربانی دیں۔اول تو اس سے بڑھ کے اخلاص اور اس کی محبت زیادہ اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہوئے اور اس مہم اور اس جہاد کی اہمیت کا احساس رکھتے ہوئے مالی قربانی دیں اور اس وقت مالی قربانی کے ساتھ ساتھ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اگلی نسل کو بھی سنبھالیں کیونکہ یہ کام نسلاً بعد نسل ہونا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اور میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہر قول قرآن کریم کی تفسیر ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں سے کسی ارشاد کی تشریح ہے۔آپ نے استدلال کیا ہے کہ ابھی تین سو سال پورے نہیں ہوں گے کہ مہدی معہود کے ذمے جو فرض عائد کیا گیا ہے نوع انسانی کو خدائے واحد و یگانہ کے جھنڈے تلے جمع کر دینے کا اور ہر دل میں ( إِلَّا مَا شَاء الله ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت پیدا کر دینے کا یہ فرض انشاء اللہ پورا ہو چکا ہوگا۔آپ نے جس رنگ میں یہ باتیں بیان کی ہیں اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے جس کا میں کئی بار اعلان کر چکا ہوں کہ میرے نزدیک ہمارے اس جہاد کی پہلی صدی تیاری کی صدی ہے اور اگلی صدی انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام کی صدی ہے اس لئے ہمیں رحم آتا ہے ان لوگوں پر جو ہمارے احساسات کو نہیں سمجھتے۔ہمیں اپنے لئے خدا کی قسم کچھ نہیں چاہیے۔ہمیں جو کچھ چاہیے وہ خدائے واحد و یگانہ اور اس کے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے چاہیے۔اس کی تیاری کی صدی میں جو باقی پندرہ سال رہ گئے ہیں میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ بڑے سخت سال ہیں کیونکہ اگر جیسا کہ میں سمجھتا ہوں دوسری صدی غلبہ اسلام کی ہے تو اس صدی کے تیاری کے جو آخری پندرہ سال ہیں ان میں وہ سب طاقتیں جو اسلام کو غالب آتا دیکھنا نہیں چاہتیں وہ انتہائی زور لگا ئیں گی کہ ہم تیاری نہ کرسکیں اور غلبہ اسلام کی صدی غلبہ اسلام کی صدی نہ بن سکے۔ہوگا تو وہی جو خدا چاہے گا لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی کمریں کس لیں اور ہر قسم کے دکھ اور تکالیف برداشت کر کے یہ جو پندرہ سال ہیں ان میں اس تیاری کو مکمل کر لیں جس تیاری کا مطالبہ غلبہ اسلام کی صدی ہم سے کر رہی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہماری تیاریاں سر پھوڑنے کے لئے نہیں ہیں ہماری تیاریاں نیم مردوں