خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 175

خطبات ناصر جلد ششم ۱۷۵ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء کا ٹا اور پھر اس کے دوٹکڑے کئے اور پھر ایک چھوٹی سی قاش کھائی مگر اُن کو نہیں بتا یا۔پھر اگلے دن خواہش پیدا ہوئی تو میں نے دو قاشیں کھا لیں اُن دنوں چونکہ قارورے کا روزانہ ٹیسٹ ہو رہا تھا اور دو دن چھوڑ کر ہر تیسرے روز خون کا ٹیسٹ ہو رہا تھا میں نے خیال کیا کہ اگر آم کی مٹھاس نے مجھے تکلیف پہنچائی تو ظاہر ہو جائے گی لیکن وہ نہ قارورے کے ٹیسٹ میں ظاہر ہوئی اور نہ خون کے ٹیسٹ میں ظاہر ہوئی۔پھر میں نے خود ہی اُن کو بتایا کہ اس طرح مجھے خواہش پیدا ہوئی تھی اور میں نے آم کھا لیا تھا۔وہ مجھے کہنے لگے کہ تم کھانے کے معاملے میں اتنا پر ہیز کرتے ہو کہ اس سلسلہ میں مجھے کوئی فکر نہیں جو دل کرے کھا لیا کرو۔اُنہوں نے میرے کھانے کا باقاعدہ ایک چارٹ بنا دیا تھا مثلاً آٹا ہے دو پہر کے وقت دو چھٹانک آٹے کی روٹی تجویز کی تھی اور رات کو ایک چھٹانک آٹے کی روٹی سے زیادہ کھانا منع کیا تھا۔میں نے کہا پر ہیز کرنا ہے تو پھر ٹھیک طرح کیا جائے۔میں نے ایک بزرگ سے کہا کہ باروچی خانے میں اپنے سامنے آٹا تول کر دیں اُنہوں نے بٹے منگوائے ، تکڑی منگوائی اور دو چھٹانک یعنی چار اونس آٹا تلوا کر اپنے سامنے باور چی سے گند وایا۔ہمارا اپنا باور چی ساتھ گیا ہوا تھا اس سے کہا کہ تم معمول کے مطابق جس قسم کی چپاتیاں تیار کرتے ہو اسی قسم کی پتلی سی چپاتیاں تیار کر و۔تو جب چپاتیاں بنیں تو وہ بنیں چار، جب کہ میرا معمول دو چپاتیاں کھانے کا تھا یعنی ایک چھٹانک آٹا۔جب مجھے ڈاکٹر صاحب ملے تو میں نے کہا کہ مجھے ایک چھٹانک آٹے کی غذائیت کسی اور چیز سے دیں کیونکہ آپ کے حساب سے تو میرا کھانا کم ہو گیا۔بہر حال ۱۹۶۷ ء سے ورزش، کام اور کھانے کا پر ہیز میرے نظام شکر کو معمول کے مطابق یعنی کنٹرول میں رکھتا ہے مگر پچھلے سال جب اتنا لمبا عرصہ بیماری رہی اور لیٹنا پڑا۔بیماری کے چار بڑے لمبے لمبے حملے ہوئے دو فلو کے اور دو انفیکشن کے جن کی وجہ سے مہینوں مجھے بستر میں رہنا پڑا تو اس قسم کا کام مثلاً میں او پر دفتر میں جاتا ہوں، کام کرتا ہوں دوست ملتے ہیں اُن سے باتیں ہوتی ہیں اس سے بھی آدمی کی طاقت خرچ ہوتی ہے اور Calories ( کیلوریز ) burn ہورہی ہوتی ہیں وہ کام چھٹ گیا جو ضروری کام کیا وہ بھی لیٹے لیٹے کیا۔جو کام کے ساتھ ورزش والا حصہ تھا