خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 138 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 138

خطبات ناصر جلد ششم ۱۳۸ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۷۵ ء ہے کہ ہم حقیقی اسلام کے علوم و معارف اور حقائق ودقائق سے پوری طرح آگاہ ہو کر اس کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں گزشتہ ایک سال سے جو خطبات دے رہا ہوں ان میں سے ایک سلسلۂ خطبات کا مقصد دو باتیں احباب جماعت کے ذہن نشین کرانا ہے۔ایک یہ کہ ہم نے اصل اور حقیقی اسلام کو ہی اختیار کرنا ہے، اس پر غور کر کے اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور دنیا کے سامنے خود اپنی زندگیوں میں اس کا عملی نمونہ پیش کرنا ہے اور دوسرے یہ کہ اگر ہم اس مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید کی اس بے نظیر تفسیر سے آگاہ ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب و ملفوظات میں بیان فرمائی ہے کیونکہ وہی اصل تفسیر ہے۔اس اصل اور بے نظیر تفسیر سے آگاہ ہم اسی صورت میں ہو سکتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نہایت قیمتی اور بیش بہا تصانیف نیز ملفوظات کا نہ صرف مطالعہ کریں بلکہ انہیں ہمیشہ زیر مطالعہ رکھیں اور ان پر غور کرتے رہیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واضح فرمایا کہ اس تفسیر سے آگاہ ہوئے اور اس سے صحیح معنوں میں مستفیض ہوئے بغیر ہمارے لئے بدعات سے یکسر منز ہ حقیقی اور خالص اسلام سے آگاہ ہونا اور اس کی حقیقی معرفت سے بہرہ ور ہو نا ممکن نہیں ہے۔اس کے بغیر نہ ہم اللہ تعالیٰ کی بے ہمتا ذات اور اس کی غیر محدود صفات اور ان صفات کے ہر آن جاری رہنے والے جلووں کا عرفان حاصل کر سکتے ہیں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انتہائی ارفع و اعلیٰ شان اور انسانی فہم و ادراک سے بالا مقام کی حقیقی معرفت ہمیں نصیب ہو سکتی ہے نہ قرآنِ مجید کے ختم نہ ہونے والے علوم و معارف اور حقائق و دقائق سے ہم بہرہ ور ہو سکتے ہیں اور نہ اس حقیقی اسلام پر عمل پیرا ہونے کی ہمیں تو فیق مل سکتی ہے۔اس حقیقت کے ایک بین ثبوت اور حضور علیہ الصلواۃ السلام کی بیان فرمودہ بے نظیر تفسیر کے نمونہ کے طو پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے براہین احمدیہ میں سے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کی حقائق و معارف سے پر نہایت ہی لطیف تفسیر پڑھ کر سنائی اور واضح فرمایا کہ حضور علیہ السلام