خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 122
خطبات ناصر جلد ششم ۱۲۲ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۵ء بعد تین بیماریاں اکٹھی شدت اختیار کر کے ظاہر ہوئیں ایک تو جسم کا شکر کا نظام خراب ہو گیا دوسرے بلڈ یور یا معمول سے دو گنا ہو گیا۔خون کے اندر یور یا اگر اپنی حدود کے اندر رہے تو یہ بھی بڑا ضروری ہے۔انسان کے لئے بھی اپنی حدود کے اندر رہنا ضروری ہے اور اس کے اجزا کو بھی۔بلڈ یور یا بڑھ جانے سے دو بار شدید لرزہ کے ساتھ بخار ہو گیا ایک بار تو اتنے شدید لرزہ کے ساتھ بخار ہوا کہ جو عزیز اُس وقت میرے پاس موجود تھے انہوں نے بتایا کہ آپ کے ملنے کے ساتھ دیواریں ہل رہی تھیں گویا بڑے شدید لرزے کے ساتھ بخار ہوتا رہا۔بعد میں جب خون اور قارورے کا لاہور سے ٹیسٹ کروایا تو بڑی شدید انفیکشن نکلی۔ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ انفیکشن یا تو گردوں میں ہے اور یا مثانہ میں۔ہمارے ایک احمدی سرجن تو ایک دن آگئے تھے کہ چلیں آپ کا ابھی آپریشن کر دیتے ہیں۔میں نے کہا میرا آپریشن تو اتنی آسانی سے نہیں ہوتا جماعت کو بتانا پڑے گا، اُن سے مشورہ لینا پڑے گا ، دعائیں کرنی پڑیں گی یہاں کے حالات کا جائزہ لینا پڑے گا۔غرض ہزار باتیں سوچنی پڑتی ہیں اس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپریشن ہونا چاہیے یا نہیں۔دوسرے اُن کا یہ خیال تھا کہ جو یوریا بڑھ گیا ہے اس کا علاج ہی ممکن نہیں اور یہ ایک بڑی خطرناک بیماری ہے ہمارے پاس اس کا علاج نہیں ہے۔خیر اُن کے یہ فقرے میرے کام آگئے۔اُن کے جانے کے بعد میں نے اُس رات یہ دعا کی کہ اے میرے رب! میں تیرا بندہ ہوں اور تیری پرستش کرنے والا ہوں ڈاکٹروں کی پرستش کرنے والا تو نہیں۔ڈاکٹر یہ فکر ڈال گئے ہیں تو اپنے فضل سے مجھے اس فکر سے نجات عطا فرما۔ایک بیماری اور دوسرے اس فکر کی وجہ سے اُس دن درد سے دعا نکلی۔خدا کی شان جس بیماری کو لاعلاج سمجھا گیا تھا ایک ہفتہ کے بعد جب دوبارہ لاہور سے ٹیسٹ کروایا تو معلوم ہوا بلڈ یوریا اپنے معمول پر آ گیا ہے اور بیماری غائب ہو گئی ہے الْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِكَ - اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے باقی رہا بیماریاں ، وہ تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں جن میں انسان دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا نشان بھی دیکھتا ہے اور صبر کے ساتھ اور برداشت کے ساتھ اس کی رحمتوں کو جذب بھی کرتا ہے۔جہاں تک میرے جسم میں شکر کے نظام کا تعلق ہے ۱۹۶۷ء میں مجھے ڈاکٹروں نے کہا تھا