خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 99

خطبات ناصر جلد ششم ۹۹ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء مظہر بننے میں اور تمہاری صلاحیتوں اور استعدادوں کے درمیان تضاد پیدا ہو جائے گا ،تم نا کام ہو جاؤ گے۔بعض دنیا داروں نے اس بات کو سمجھا ہے چیئر مین ماؤزے تنگ کے دماغ میں بھی یہ بات آئی ہے کہ تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ایک دفعہ مجھے چینی سفیر ملے اُن سے بڑی لمبی باتیں ہوئیں۔مختصراً ایک بات بتا دیتا ہوں میں نے اُن سے کہا کہ چیئر مین ماؤ نے کہا کہ انسانی زندگی میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔اُن کے سامنے اور ان کے تصور میں تو صرف دنیا ہی کی زندگی ہے ہمارے سامنے یعنی ایک مسلمان کے سامنے دنیا کی یہ زندگی جو بڑی حقیر اور بڑی چھوٹی ہے، یہ بھی ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والی اور بہت بڑی ایک اور زندگی بھی ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا ہے اور جس پر ہمیں یقین ہے کہ وہ بھی ہے۔بہر حال تضاد نہ ہو میں نے کہا ٹھیک ہے اُن کے دماغ میں آیا لیکن ہمیں تو قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے یہ تعلیم دی تھی کہ ہماری زندگیوں میں دو ہرا پن یعنی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔اندرونی تضاد بھی نہیں ہونا چاہیے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے مقابلے میں بھی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔چینی سفیر کو یہ سُن کر بڑا تعجب ہوا وہ سمجھتے تھے کہ انسانی تاریخ میں شاید چیئر مین ماؤ کے دماغ میں پہلی دفعہ یہ بات آئی ہے حالانکہ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے اور اسے قرآن کریم نے بیان کیا اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک احسن اسوہ اور عمدہ مثال پیدا ہوئی اور ہمیں نظر آئی۔آپ کی زندگی اس طرح ہے جس طرح کہ گویا خدا تعالیٰ کی صفات کے سایہ کے نیچے گزری۔ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جہاں کوئی تضاد ہو۔جنگوں کا حکم نہیں تو مظلومیت کی زندگی گزار دی، جنگوں کی اجازت ملی تو ٹوٹی ہوئی تلوار میں لے کر میدان میں نکل کھڑے ہوئے۔آپ کے فدائیوں نے جانیں دیں شہید ہوئے۔کہتے ہیں ستر شہیدوں کی لاشوں کو ایک ہی گڑھا کھود کر دفن کر دیا۔آپ کی زندگی کا ہرلمحہ اور ہر پہلو یہ بتارہا ہے کہ صرف خدا سے تعلق ہے۔دنیا سے تعلق خدا کے واسطے سے ہے خدا سے علیحدہ ہو کر نہیں۔دنیا سے علیحد ہ ہونے کا تو اسلام نے ہمیں سبق نہیں دیا۔خدا میں ہو کر خدا کی مخلوق سے واسطہ اور چیز ہے اور خدا سے دور ہو کر خدا کی مخلوق سے تعلق قائم کرنا اور چیز ہے۔گویا آپ کی زندگی کا ہر پہلو بتا تا ہے کہ اتنا