خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 98
خطبات ناصر جلد ششم ۹۸ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن :۳۰) اس کی رو سے ہر جلسہ سالانہ میں کوئی نہ کوئی نیا رنگ پیدا ہو کر اس کی مجموعی کیفیت کو بدل دیتا ہے اس لئے ہمارا گذشتہ جلسہ سالانہ بھی منفرد ہے اس لحاظ سے کہ اس میں جماعت احمدیہ کا جو کردار تھا اور اس کا جو مقام تھا وہ یوں ابھرا کہ دنیا حیران رہ گئی۔احباب جماعت کو ڈرایا گیا ان کو دھمکایا گیا بظاہر پیار کے رنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ بڑی مشکل ہے یہ جلسہ نہ ہو تو اچھا ہے یا تھوڑے سے آدمی بلا لئے جائیں لیکن خدا کا یہی منشاء تھا اور جماعت کی یہی خواہش تھی اور جماعت کے امام کا یہی فیصلہ تھا کہ ہم معمول کے مطابق جلسہ سالانہ منعقد کریں گے۔دنیا داروں کے جو افعال ہیں اُن کے نتیجہ میں ہمیں اتنا بھی احساس نہیں ہونا چاہیے جتنا کہ کسی آدمی کو راہ چلتے ہوئے کانٹا چھنے کا احساس ہوتا ہے اور اس لئے فرمایا: - فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَونی ہم نے اللہ تعالیٰ کی خشیت کے نتیجہ میں انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنی ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ خشیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اتنی عظیم ہستی کہ فرمایا تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ہم اسی سے ہر برکت اور نعمت حاصل کریں کیونکہ اس کے بغیر کسی اور سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ہم نے اس کے لئے زندگی گزارنی ہے اور اس کی منشاء کے مطابق ہم نے کام کرنا ہے اس نے مہدی کو بھیجا اور کہا کہ ہر سال ایک جلسہ کیا کرو۔ہم نے جلسہ کر دیا اگر کبھی ایسی روک پیدا ہو جو بعض دفعہ پیدا ہوئی ہماری تاریخ میں کہ جلسہ ہو ہی نہ سکے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ہم اس سے خوش ہیں لیکن آپ ہی خوف کے مارے نیکیوں کا کام اور نیکی کی باتیں سننے کا جو ایک موقع ہے اس کو گنوا دیں یہ تو نہیں ہوسکتا۔پس پچھلا جلسہ سالانہ جو تھا اس میں جماعت کا جو حقیقی مقام تھا یہ کہ اُن کا اپنا وجود ہی کوئی نہیں۔یہ عاجزی کا مقام ہے اور ان کی زندگی ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی وجہ سے ہے ورنہ نہیں ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا پیار ہمیں حاصل نہیں تو ہم نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا پیار ہمیں حاصل ہے تو پھر کسی اور کی ہمارے دل میں خشیت کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔تو بہت سی میں نے بتایا سینکڑوں چیزیں ہیں جن کی نشاندہی کی گئی ہے فرمایا یہ کرو گے تضاد پیدا ہو جائے گا یا یہ نہ کرو گے تو تضاد پیدا ہو جائے گا۔اندرونی زندگیوں میں اور خدا تعالیٰ کی صفات کا