خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 91
خطبات ناصر جلد ششم ۹۱ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء رہے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلبگار رہے اور تیسرے یہ بتایا کہ تمام برکتیں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل کی جاسکتی ہیں اور اس کے لئے اس نے یہ بتایا تھا کہ یہ ظاہر کرے کہ احسن عمل والا کون ہے اور انسان کے حسنِ عمل کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو قانون بنایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے۔اللہ تعالیٰ کی بنیادی صفت یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ خَلَقَ سَبْعَ سَمواتِ طِبَاقًا اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اوپر نیچے مگر ایک دوسرے سے موافقت رکھنے والے بنائے ہیں ان کی خاصیتوں میں بھی تضاد نہیں ہے۔یہ نہیں کہ پہلا آسمان کسی اور طرف لے جارہا ہو اور اس کا نتیجہ کچھ اور نکل رہا ہو اور دوسرے آسمان کا کچھ اور۔ساتوں آسمان اوپر نیچے بھی ہیں اور آپس میں موافق بھی ہیں اور ان کے ذریعہ انسان کے لئے روحانی ترقی کے درجہ بدرجہ سامان بھی پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ اس عالمین کے جو سات آسمان ہیں ان کے علاوہ روحانیت کے بھی سات آسمان ہیں اور ان پر انسان درجہ بدرجہ بلند ہوتا ہے۔اس کے لئے اُسے محنت کرنی پڑتی ہے بہت مجاہدہ کرنا پڑتا ہے اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے اس کے لئے اُسے خدا کے دامن کو پکڑ لینا پڑتا ہے اس عہد کے ساتھ کہ دنیا اس کے ساتھ جو مرضی سلوک کرے وہ اپنے رب کے دامن کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔پس برکت والا ہے وہ خدا جس نے سات آسمان درجہ بدرجہ اوپر نیچے اور بالکل موافق پیدا کئے۔یہ نہیں کہ کسی کے زاویے کسی دوسری طرف نکلے ہوئے ہوں جس طرح جگر متورم ہو جائے تو ایکسرے میں جگر کا سایہ اور ہوتا ہے اور پہلی کا سایہ کچھ اور ہو جاتا ہے۔ا یک دفعہ میرے ساتھ بھی اسی طرح ہوا کہ ڈاکٹروں نے غلط تشخیص کی وجہ سے کہہ دیا کہ جگر پھٹ گیا ہے یہ تو میں ویسے ضمناً بات کر رہا ہوں۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ اس آیت میں طباقا کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو ان میں کوئی فرق نہیں۔ہر لحاظ سے سب آپس میں موافقت رکھتے ہیں اپنے وجود کے لحاظ سے بھی اور اپنے خواص کے لحاظ سے بھی اور اپنے اثرات کے لحاظ سے بھی۔اختلاف کے باوجود آپس میں موافقت ہے کیونکہ اس عالمین کو انسان کی بہتری اور مفاد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے ہر آسمان (سَمَاءَ الدُّنْیا میں تو ہماری زمین بھی آجاتی ہے ) انسان کی بہتری کے لئے