خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 67
خطبات ناصر جلد ششم ۶۷ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء عموماً ہم درخت تو بہت لگاتے ہیں لیکن پھر پرواہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔پس ہر احمدی کو چاہیے کہ درخت لگائے اور حتی الوسع اس کو ضائع نہ ہونے دے۔اس لئے جو مادی تدبیر ہے وہ بھی کرے اور پھر جو روحانی تدبیر ہے دعا کے ساتھ ، پیار کے ساتھ ، وہ بھی کرے اور خدا کو یہ کہے کہ اے خدا! تو نے قرآن کریم میں درخت لگانے کا حکم دیا ہے۔درختوں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن تیرے پیار سے ہمیں دلچسپی ہے وہی ہماری زندگی اور روح کی غذا ہے۔باقی ان درختوں کو ہم نے کیا کرنا ہے؟ تیرا حکم ہے تیرا منشاء ہے تیری خواہش ہے کہ جو بھی خدام تو نے ہمارے لئے پیدا کئے ہیں ہم ان سے خدمت لیں اس لئے ہم یہ درخت بھی لگاتے ہیں۔اور دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اسی کے تسلسل میں اور اسی لئے ہم گھوڑوں سے بھی پیار کرتے ہیں ، گھوڑا ، کتا یا دوسرے جانور جو ہیں اپنی ذات میں ہمیں ان سے کیا پیار ہے لیکن ہر مخلوق کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا:۔وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثیۃ : ۱۴ ) کہ ہر مخلوق انسان کی خدمت کے لئے بطور خادم پیدا کی گئی ہے پس جس کو خدا نے ہمارا خادم بنا یا بڑا ہی متکبر اور مغرور ہوگا وہ شخص جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے خادم بنایا ہے اس سے خدمت لینے سے انکار کر دے اور اباء اور استکبار اور بغاوت کی راہ اختیار کرے۔پس گھوڑا بھی ہمارا خادم ہے قرآن کریم نے اس کی بڑی تعریف کی۔پہلے انبیاء نے اس سے خدمت لی۔اسلام نے خدمت لی، اس وقت گھوڑوں کے متعلق یورپ و امریکہ میں جو کتب لکھی جا رہی ہیں اگر ان میں عرب گھوڑے کا ذکر ہے تو مجبور ہو گئے ہیں اپنے تمام تعصبات کے با وجود کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی لیں اور آج کی بھی ساری دنیا اس بات کے اعتراف پر مجبور ہے کہ عرب گھوڑے کی نشو و نما اور اس کو کھلانا اور اس کے خواص کو قانونِ قدرت کے مطابق ضیاع سے بچانا ، یہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہوا ہے۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ عرب کو فائدہ اس وقت پہنچا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم