خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 65 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 65

خطبات ناصر جلد ششم خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء اور کتا بیں شائع ہوتی ہیں مثلاً قرآن کریم جو کہ ذکر کی کتاب ہے ساری دنیا میں اس کا پھیلا نا جو ہے درخت اس کے اندر خدمت کر رہے ہیں اور محد و معاون بن رہے ہیں یہ ہے تذکرہ۔پھر قرآنِ کریم کی تفسیر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی شکل میں انسان تک پہنچی یا صلحائے امت کی کتب جو اُنہوں نے لکھیں یا اقوال جو تحریر میں آئے ، یا پھر اس زمانہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند نے زمانہ حاضرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم کی تفسیر ہمارے ہاتھ میں رکھی۔یہ وہ بھی کاغذ کے اوپر کتا بیں لکھی جاتیں اور دنیا میں پھیلائی جارہی ہیں اس معنی میں یہ تذکرہ ہے اور پھر تیسری چیز جس کا ذکر یہاں ہے وہ یہ کہ لکڑی میں مسافروں کی سہولت کا سامان رکھا گیا ہے جیسے کشتیاں ہیں ایک زمانہ میں تو لکڑی کی کشتیاں بنتی تھیں۔ہمارے دریاؤں میں ڈونیاں ہیں بڑے جہاز یہاں نہیں شمالی علاقوں میں۔لیکن دریا ہیں وہاں کشتیاں ہیں اور ساری بنی ہوئی ہیں لکڑی کی۔یہ لکڑیوں کی کشتیاں مسافروں کے کام آتی ہیں۔بڑی کشتیاں ہیں۔جو جہاز ہیں بڑے بڑے لوہے کے خول ہیں انہوں نے بنا دیئے لیکن اندر سارا کام لکڑی سے کیا جا رہا ہے تو مسافروں کے آرام کے لئے سامان پیدا کر دیئے۔اور قرآن کریم نے بہت سی آیات میں درختوں کے فوائد کا ذکر کیا ہے۔میں نے ان میں سے تین لئے ہیں ان آیات میں ایک بڑا فائدہ درخت کا یہ ہے کہ وہ آپ کے لئے پھلوں کی شکل میں بہترین غذا مہیا کرتا ہے۔خدا کی عجیب شان ہے کہ ایک ہی مٹی ، ایک ہی پانی ، قریباً کم و بیش ایک ہی قسم کی کھاد سے مختلف الانواع پھل، جن کے مزے بھی مختلف، جن کی شکل بھی ہماری آنکھوں کے لئے سرور کا باعث بنتی ہے وہ بھی مختلف، جن کے خواص بھی مختلف ، کوئی گرم ہے، کوئی سرد ہے۔موسموں کے لحاظ سے سردی کے پھل اور گرما کے پھل اور بہار کے پھل اور خزاں کے پھل ہر موسم کے لئے یہ درخت ہمارے لئے پھل مہیا کرتے ہیں اور جنت کے متعلق قرآن کریم نے یہ فرمایا کہ پھل کبھی ختم نہیں ہوں گے اس دنیا میں بھی جنت جیسے جنات اور باغ لگائے جا سکتے ہیں جس میں ہر موسم کا درخت لگایا جائے اور ہر موسم میں پھل آپ کو ملتے رہیں۔میں توت کے درخت کے متعلق بات کر رہا تھا۔اگر توت کا درخت ریشم کے لئے نہیں لگا نا تو