خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 64

خطبات ناصر جلد ششم ۶۴ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء کہیں تو کہیں پندرھا ، کہیں پچھیں تو یہ میں ہزار درخت بن جاتا ہے اور سارے ربوہ کی مجموعی آمد بڑھ جاتی ہے ان درختوں کی وجہ سے شہر کی شکل دور سے ہوائی جہاز سے۔ہوائی جہاز یہاں بہت گزرتے ہیں راستہ ہے ان جہازوں کا یہ۔ویسے آنکھ کو بھی سایہ، آرام دہ جگہ۔گرمیوں میں کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی بہت سے فوائد ہیں۔جو آیات میں نے اس وقت تلاوت کی ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے کئی فوائد درختوں کے بتائے ہیں ایک یہ کہ لکڑی سے ہم گرمی حاصل کرتے ہیں آگ جلاتے ہیں ، آگ سے ہزار ہا کام ہیں ہمارے جن کا تعلق آگ سے ہے۔ہمارا کھانا پکتا ہے آگ پر، بہت سی انڈسٹریز ہیں جن میں لکڑی جلتی ہے۔بھٹیوں کے اوپر ہمارے کپڑوں کی صفائی ہے اور اگر ہم جو خدا تعالیٰ نے اپنی شان بتائی ہے کہ تم درخت کا بیج لگا سکتے ہو یا پودا اگا سکتے ہولیکن اس حالت میں بیچ کا پہنچ جانا جب لگانے کے قابل ہے یا بعد میں بڑھنا، یہ انسان کا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اس سے دعا اور تضرع کے ساتھ مانگنا چاہیے۔پس ہمیں خدا تعالیٰ کی شان ہر جگہ نظر آتی ہے، درختوں میں بھی اور اس کی دوسری مخلوقات میں بھی ، بے حد اس کی صفات ہیں اس کی خلق کے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے غیر محدود ہیں، اس لئے جو چیز اس کی دست قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کی صفات بھی اور خواص بھی غیر محدود ہیں۔انسان ان پر حاوی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ پچھلے دو سو سال میں لکڑی سے وہ کام لئے گئے ہیں جو اس سے پہلے نہیں لئے گئے چنانچہ چپ بورڈ ایک نئی ایجاد ہے یہ بھی لکڑی سے بنتی ہے۔اور ایک تو خدا تعالیٰ نے یہاں اس طرف توجہ دلائی کہ ہمارے حکم سے درخت پلتے ہیں اس لئے خالی درخت کا لگانا کافی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کے حصول کے لئے اس کے حضور عاجزانہ دعائیں اور اس کی خاطر عاجزانہ راہوں کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔دوسرے فرمایا کہ اس میں ہم نے نصیحت کے سامان رکھے ہیں ایک تو جو میں نے ابھی بتایا وہ نصیحت ہے اور دوسرے نصیحت کے سامان یہ کہ اب ان درختوں سے ہمارا کاغذ بننے لگ گیا ہے