خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 59
خطبات ناصر جلد ششم ۵۹ خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۷۵ء ہم تو اللہ کے بندے ہیں۔جو شخص اللہ کا بندہ ہوتا ہے وہ مسکرائے گا نہیں تو اور کیا کرے گا۔جو شخص واقعہ میں خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کا عرفان رکھتا ہے اور جس کو خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہے اُس کو تو خوشی ہی خوشی حاصل ہے وہ منہ نہیں بسورے گا اور نہ تیوریاں چڑھائے گا کیونکہ اس کی زندگی خدا کے لئے ہے اور خدا کا پیار اُس کے لئے ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہے سال رواں کے مالی بجٹ ختم ہونے میں صرف اڑھائی ماہ باقی رہ گئے ہیں۔بجٹ پورا کرنے کے لئے سولہ سترہ لاکھ کی مزید رقم آنی چاہیے اس میں سے پانچ چھ لاکھ روپیہ تو آخری دس دنوں میں آجاتا ہے یہ عام طور پر جماعت کا قاعدہ اور طریق چلا آ رہا ہے۔مالی سال ۱۰ رمئی کو بند کیا جاتا ہے کیونکہ اپریل کی تنخواہیں اور دیگر آمد نیاں یکم۔۲۔۳ رمئی کو ہوتی ہیں اس لئے ہم ہر سال چند دنوں کی گنجائش رکھتے ہیں۔چنانچہ مئی کے شروع میں پانچ چھ لاکھ روپیہ آ جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یکم مئی سے پہلے پہلے گیارہ بارہ لاکھ کی جو کمی اس وقت نظر آرہی ہے وہ پوری ہونی چاہیے۔اگر احباب جماعت اپنے رب کریم پر بھروسہ رکھیں گے تو وہ یاد رکھیں خدا ان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا وہ انہیں مالی قربانی کی بھی توفیق دے گا۔ایک جذ بہ اور ایک بشاشت کے ساتھ قربانی دینے کا سوال ہے وہ ہر احمدی کو دینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔خدا کرے ہمارا قدم ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھنے والا ہو، کسی جگہ ٹھہر نے والا نہ ہو جیسے اس کی رحمتیں پہلے نازل ہوتی رہی ہیں ویسے ہی اب بھی نازل ہوں۔روز نامه الفضل ربوه ۱۳ / مارچ ۱۹۷۵ء صفحه ۲ تا ۵ )