خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 48
خطبات ناصر جلد ششم ۴۸ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۷۵ء تمہارا جوا شد ترین دشمن ہے اگر تم اس کے لئے دعا نہیں کرتے تو آپ فرماتے ہیں کہ مجھے تمہارے ایمان کے متعلق شبہ ہے پس یہ مقام ہے جماعت احمدیہ کا اور جب تک کوئی جماعت یا کوئی فرد اپنے مقام کو نہ پہچانے اُس وقت تک وہ اُن برکات اور فیوض اور رحمتوں کا وارث نہیں ہوا کرتا جو اس مقام کے لئے مختص ہوتی ہیں۔پس اس وقت میں احباب جماعت کو مختصراً جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ بڑی اہم ہے کیونکہ ہمارا آج کا ماحول اس کا تقاضا کر رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ احباب اپنے مقام کو پہچانیں اور پورے یقین کے ساتھ اپنے مقام کو پہچا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند کو ایک جماعت دوں گا جو اس روحانی فرزند کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور آپ کی برکات کی وارث ہوگی اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم پر چلنے والی ہوگی اور آپس میں محبت اور پیار کرنے والی ہو گی میں پھر کہتا ہوں کیونکہ میرے سامنے بعض دوست ایسے بھی ہیں جو اس حقیقت پر یقین نہیں رکھتے کہ مہدی معہود کی جماعت آپس میں محبت اور پیار کرنے والی جماعت ہوگی۔جو لوگ آپس میں محبت اور پیار نہیں کرتے وہ خدا کی نگاہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل نہیں۔صرف دُکھ اٹھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونا تو بڑی بدقسمتی کے مترادف ہے بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ دکھ اٹھانے کے لئے انسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی طرف منسوب ہو جائے لیکن جو ذمہ داریاں ہیں اُن کو ادا نہ کرے اور اس مقام پر کھڑے ہونے سے جوسکھ اور جو سرور اور جو لذت اور جو فیوض اور جو رحمتیں حاصل ہوسکتی ہیں اُن سے وہ اپنے آپ کو محروم کرے۔پس احباب جماعت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس محرومی سے بچائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ذریعہ دنیا میں بشاشت اور سکھ کا جو ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے اس کی تو فیق عطا ہو۔ہم اللہ تعالیٰ کی منشا اور اسی کی توفیق سے وہی بشاشت جو ہمیں دی گئی ہے نوع انسانی کے لئے ویسی ہی