خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 618 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 618

خطبات ناصر جلد ششم ۶۱۸ خطبہ جمعہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۶ء وہ اللہ کی مخلوق ہے اور جو مخلوق ہے اسے ہم خدا نہیں مانتے نہ مان سکتے ہیں۔ہم صرف اس اکیلے ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں جس کی ذات اور صفات کی معرفت ہمیں اسلام نے دی اور قرآن کریم نے بتائی۔اللهُ الصَّمَدُ اللہ اپنی ذات میں غنی ہے اپنے وجود کے لئے اپنی صفات اور ان کے جلوؤں کے لئے اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں۔مادے کی بھی اسے احتیاج نہیں کیونکہ مادہ بھی موجود نہیں تھا اس نے اسے پیدا کر دیا اور جب چاہے اسے مٹا دے۔اس کی صفات کے جلوے کسی شکل میں کسی معنی میں بھی کسی غیر کے محتاج نہیں ہیں اور اللہ کے سوا ہر چیز اللہ کی محتاج ہے اپنے وجود کے لئے بھی کہ اگر وہ پیدا نہ کرتا تو کوئی چیز بھی موجود نہ ہوتی اور اپنے قیام کے لئے بھی کہ جب تک خدا تعالیٰ کی صفات سے اس کا تعلق قائم ہو وہ قائم رہتی ہے ورنہ فنا ہو جاتی ہے۔یہ صفات بھی باقی اور صفات کی طرح ازلی ابدی ہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔” ہمیشہ میں بھی انسان کا دماغ وقت کی طرف جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں بالائے زمان و مکان ہے یعنی نہ مکان کے ساتھ اس کا کوئی واسطہ نہ زمانہ کے ساتھ۔یہ چیزیں تو ہمارے لئے ہیں، مخلوقات کے لئے۔خدا تعالیٰ نہ زمانے میں بندھا ہوا ہے نہ کسی مکان میں محصور ہے بلکہ بالائے زمان و مکان اس کی ہستی ہے۔اللہ کے سوا ہر چیز اس لحاظ سے بھی اس کے مقابلہ پر نہیں آسکتی کہ جس کو خدا نے پیدا کیا وہ از لی نہیں رہا اور جب وہ فنا ہو جائے ، فنا اس پر وارد ہو جائے تو وہ ختم ہو جاتا ہے ابد کا سوال ہی نہیں رہتا۔نہ خدا نے اپنے جیسا، اپنی جنس کا کوئی اور وجود جنا نہ وہ جنا گیا۔اس میں بھی ازلی ابدی تصور ہے خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہستیاں اولاد پیدا کرتی ہیں جو زوال پذیر ہوں تا کہ جو ان کے بچے پیدا ہوں وہ آگے ان کی جگہ لینے والے ہوں لیکن جس نے ہمیشہ قائم رہنا ہے اس کو اس کی احتیاج بھی نہیں اور اس نے ایسا کیا بھی نہیں کیونکہ یہ اس کی صفات کے خلاف ہے اور ہمارے اللہ کوکسی اور نے پیدا نہیں کیا کیونکہ هُوَ الاول (الحدید: ۴) سب سے پہلے اس کی ذات ہے جس سے پہلے کوئی ہے ہی نہیں اس نے