خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 574

خطبات ناصر جلد ششم ۵۷۴ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء ہمیں چاہیے۔یہ صرف بچوں کے لئے ہوں گی۔بڑوں کے لئے تو پھر ساری دنیا کے علوم کو اپنے احاطہ میں لینے والا لٹریچر ہمیں چاہیے۔یہی ہمیں کہا گیا تھا کہ میرے ماننے والوں کے علم میں خدا تعالیٰ اتنی برکت دے گا کہ نہ صرف یہ کہ وہ لوگ جو صاحب علم ہیں اور علامہ دہر بنے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیم پر حملے کرتے ہیں اُن کے حملوں کا کامیاب دفاع کر سکیں۔خالی یہی نہیں بلکہ دنیا میں یہ ثابت کر دکھا ئیں گے کہ اُن کے علوم بنیادی غلطیوں سے پر ہیں اور قابل قبول نہیں۔اس پر میں وہاں بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتا رہا ہوں اور بتاتا رہا ہوں کہ عقل، عقل، عقل کی رٹ بے معنی ہے۔میں ان کے سامنے مثالیں دے کر ثابت کرتا رہا ہوں کہ عقل قطعاً تمہارے کام نہیں آتی۔اس لئے چھوڑ و عقل کو اور کسی اور کا ڈر ڈھونڈو اور وہ اللہ کے در کے علاوہ اور کوئی ڈر نہیں ہے وہی ایک ڈر ہے جہاں سے تمہاری بھلائی اور خیر کے سامان پیدا ہو سکتے ہیں۔وہ عقل جو متضاد باتیں کرنے والی اور عقل عقل سے لڑنے والی ہے وہ ہمارے یا بنی نوع انسان کے کام کیسے آسکتی ہے۔جرمنی سے ہم زیورچ ( سوئٹزرلینڈ ) گئے۔زیورچ میں میری دلچسپی کی نمایاں چیز یہ تھی کہ پچھلی کا نفرنس میں یعنی اس سے تین سال پہلے جو کا نفرنس ہوئی تھی اس میں ایک بڑی تیز فری لانسر صحافیہ بھی آئی ہوئی تھی۔پریس کانفرنس سے پہلے کھانا دیا جاتا ہے کھانے کے دوران وہ یہ کہتی رہی کہ میں نے تو اس شخص کو اس طرح تنگ کرنا ہے اور یوں تنگ کرنا ہے یہ سوال پوچھنا ہے اور وہ پوچھنا ہے۔میں نے تو ایسے سوال پوچھنے ہیں کہ اسے بالکل لا جواب کر دوں گی۔ہر دس منٹ کے بعد ایک احمدی دوست آتے اور کہتے کہ یہ تو بڑی تیزیاں دکھا رہی ہے۔آخر میں نے کہا مجھ سے سوال کرے گی تمہیں کیا فکر ہے تم آرام سے بیٹھو اور اسے بولنے دو۔خیر جب کانفرنس شروع ہوئی تو وہ چپ کر کے بیٹھی رہی جب ۳۰-۴۰ منٹ گزر گئے تو میں نے اسے کہا کہ مجھے تو یہ خبریں آ رہی تھیں کہ تم نے مجھ سے بڑے سوال کرنے ہیں تم اب خاموش کیوں بیٹھی ہو؟ تو کہنے لگی کہ جو میں نے پوچھنا تھا آپ کی باتوں میں اس کے جواب مل رہے ہیں اس لئے میں نہیں بول رہی۔یہ عجیب بات ہے کہ اس دفعہ پھر آئی تو وہ بالکل بدلی ہوئی تھی۔میں نے کہا میں نے تمہیں پہچان لیا ہے تین سال پہلے جو پریس کا نفرنس ہوئی تھی اس میں بھی تم تھیں ویسے اس دفعہ وہ بہت زیادہ