خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 568
خطبات ناصر جلد ششم ۵۶۸ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء کرنے میں وقت لگنا تھا ایک عیسائی مشن نے وہاں کام شروع کیا تھا اور کئی سال تک کام کرنے کے بعد وہ ناکام ہوئے اور عمارتیں چھوڑ کر اس جگہ سے چلے گئے وہ مکان خالی پڑے ہوئے تھے ان کو پتہ نہیں کیا خیال آیا خدا تعالیٰ خود سامان پیدا کرتا ہے جن لوگوں سے ہمارا مقابلہ ہے روحانی اور اخلاقی اور مذہبی میدانوں میں۔انہوں نے کہا یہ مکان خالی پڑے ہوئے ہیں یہ احمدیوں کو دے دو۔چنانچہ وہ ہمیں مل گئے جب ہمیں ملے تو اُن کا سکول باوجود اتنی دولت کے جو عیسائی دنیا کے پاس ہے نا کام ہو گیا لیکن ہمارا سکول اتنا کامیاب ہوا کہ سارے علاقے کے بچے وہاں آنے لگے۔انہوں نے ہمیں کہا تو یہ تھا کہ ۳۔۴ سال کم از کم اپنے پاس رکھو۔اس عرصہ میں ہم آپ سے نہیں لیں گے لیکن ابھی سال سے بھی زیادہ عرصہ باقی تھا تو کہنے لگے واپس کرو۔جس آدمی نے بنائے تھے وہ ملک چھوڑ کر اپنے ملک امریکہ چلا گیا تھا جب اس نے یہ حالات سنے تو واپس آ گیا اور اس نے کہا خالی کرو۔اس عرصہ میں خدا تعالیٰ نے توفیق دے دی اپنے سکول کی اپنی زمین پر عمارت بنانے کی اور ان کو کہا ٹھیک ہے ہم خالی کر دیتے ہیں وقت سے پہلے تم اپنے مکان لے لو چنانچہ انہوں نے بڑے طمطراق سے پھر اپنا سکول جاری کیا۔چھ ماہ کے بعد وہ سکول ان سے چل نہیں سکا اور واپس چلے گئے۔ہمیں ان کے تعمیر شدہ مکانوں میں کوئی دلچسپی نہیں، ہمیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت میں دلچسپی ہے اور اسی کے حصول اور اس کی رضا کی تلاش میں ہم اس کے حضور قربانی پیش کرتے ہیں جتنی بھی ہو سکتی ہے۔دنیوی لحاظ سے ہمارا امیر بھی اور ہمارا غریب بھی انتہائی درجے کا مخلص دل رکھتا ہے۔تربیت یافتہ ہو یا زیر تربیت ہو ہر ایک کے اندر ایک حرکت ہے جو خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کی طرف لے جارہی ہے۔اس سے قطعا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسی کی حرکت کمزور ہے اور کسی کی تیز ہے۔یہ ہم مان لیتے ہیں لیکن ہر حرکت ہمیں خدا تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہے سوائے منافق کی حرکت کے جس کا ذکر قرآن کریم میں بار بار آیا ہے وہ ریا اور تکبر سے بھرا ہوا ہے اور دکھاوے کے لئے کام کرتا ہے اور فتنہ پیدا کرنے کے لئے مصلح کا روپ بھرتا ہے اور مصلح کے لباس میں وہ آتا اور خدا تعالیٰ کی جماعت اسے رد کرتی ہے۔کئی یہاں کے لوگ یہاں کے متعلق عجیب باتیں کہہ دیتے ہیں اس وقت نو جوان