خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 37

خطبات ناصر جلد ششم ۳۷ خطبه جمعه ۲۴ / جنوری ۱۹۷۵ء کے تو سارے اعمال ہی دکھاوے کے ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ دل سے اعتقاد ہی نہیں رکھتا اور اس کا ایمان صحیح ہے ہی نہیں تو اس کا جو مومنانہ عمل ہوگا وہ ریا اور دکھاوے کا عمل ہوگا۔وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا عمل نہیں ہوگا لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے کہ انسان صداقت کے پہچان لینے کے بعد بھی بشری کمزوری یا غفلت کے نتیجہ میں ایک ایسا کام کر لیتا ہے جو ایک مومن اور مصدق کا عمل نہیں ہوتا بلکہ ایک منافق کا عمل ہوتا ہے۔پس نفاق سے بچنے کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔اس سے بچنے کے لئے مجاہدہ کرنا چاہیے اور بڑی کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نفاق سے محفوظ رکھے۔یاد رکھیں ہم خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر کے دنیا کے لئے ایک نمونہ بننے کی خاطر پیدا ہوئے ہیں۔ہماری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اس نمونے اور روحانی خوبصورتی کے نتیجہ میں دنیا میں اسلام کو سر بلند کر سکیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ رَحْمَةٌ لِلعلمین تھے اس لئے جب آپ کا سایہ انسان پر پڑتا ہے تب اس میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔اس خوبصورتی اور اس احسان کے نتیجہ میں کہ انسان جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑتا ہے تو آپ کی قوتِ احسان انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔خدا کرے آپ کے اس حسن و احسان اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کے نتیجہ میں ہم اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور ہمارا مقصد یہی ہے کہ ہم نے نوع انسان کے دل جیت کر اپنے محبوب آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنے ہیں۔انشاء اللہ۔وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۲ را پریل ۱۹۷۵ ء صفحه ۲ تا ۴)