خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 36

خطبات ناصر جلد ششم ۳۶ خطبه جمعه ۲۴ / جنوری ۱۹۷۵ء پہنچی تھی اُس میں حصہ دار ہونے کی کوشش کی۔صرف اُس کے لئے نہیں بلکہ ساری جماعت کے لئے بڑے خوف کا مقام ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنی غفلت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے اُن فضلوں سے محروم ہو جائے جو جماعت احمدیہ پر نازل ہوتے ہیں۔ویسے جان بوجھ کر تو کوئی احمدی ایسا نہیں کرتا سوائے اس کے کہ کوئی منافق ہو لیکن میں اس وقت منافق کی بات نہیں کر رہا، میں اُن لوگوں کی بات کر رہا ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں وارننگ دی ہے اور جن کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دیکھو قول و فعل میں تضاد بڑے خوف کا مقام ہے۔اگر تمہارے قول اور تمہارے فعل اور تمہارے اعتقاد میں تضاد ہوا بایں ہمہ کہ تم نے دعوی یہ کیا کہ ہم ایمان لائے۔ہم نے تصدیق کی۔لیکن اگر تمہارا اعتقاد اس سے مختلف ہوا یا تمہارے اعمال اس سے مختلف ہوئے تو یہ نہ بھولنا کہ لا يُرَدُّ بَأْسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ تم مجرم بن جاؤ گے اور مجرم اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں۔قرآن کریم تمہیں یہ بتا دیتا ہے کہ یہ عذاب ہے اس سے تم بچ نہیں سکتے اس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔اس لئے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ جس معنی میں اسلامی اصطلاح میں تصدیق کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہ تکذیب کے مقابلہ میں ہے اس معنی میں ہم مصدق ہوں گے۔زبان سے بھی تصدیق کرنے والے اور اس کے مطابق عملی اعتقاد رکھنے والے ہوں گے۔دراصل اعتقاد صحیحہ منبع بنتا ہے اعمال صالحہ کا۔پس اگر ہمارے اعمال صالحہ ہوں گے تو ہم اپنی زندگیوں میں خدا تعالیٰ کو ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ پائیں گے۔لیکن اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو خواہ ہمارا دعوی یہ ہو کہ ہم مصدق ہیں ہمارا مقام مصدق کا مقام نہیں ہوگا بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کے قہر کے نیچے آجائیں گے۔لیکن ایک احمدی جو منافق نہیں ہے ویسے الہی سلسلوں میں منافقوں کا سلسلہ بھی ساتھ لگا ہوا ہے لیکن وہ تو استثناء ہیں اور جو استثناء ہے وہ قاعدہ کو ثابت کرتا ہے۔الہی سلسلوں میں بہت بھاری اکثریت مخلصین کی ہوتی ہے۔میرے خیال میں منافق کا وجود تو شاید ہزار میں۔ایک بھی نہیں ہو گا شاید دس ہزار میں ایک بھی نہیں ہو گا لیکن جو شخص منافق نہیں ہے یعنی اُن لوگوں کی طرح نہیں ہے جو جانتے بوجھتے ہوئے زبان سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اس کے مطابق اعتقاد نہیں رکھتے اور نہ عمل کرنے کے لئے تیار ہیں سوائے ریا اور دکھاوے کے عمل کے۔منافق