خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 526
خطبات ناصر جلد ششم ۵۲۶ خطبہ جمعہ ۳۰/ جولائی ۱۹۷۶ء چمکے اور اسے روشن کرے ان تہی ہاتھوں کو اپنے دست قدرت میں پکڑ۔تیرا جلال اور محمد کی عظمت دنیا پر ظاہر ہو۔اسلام اور محمد کے مغرور دشمن کا سرنگوں اور شرمندہ کر دے۔اے ہمارے رب ! ہماری بھول چوک پر ہمیں گرفت نہ کرنا اور ہماری خطاؤں سے درگزر کرنا۔ہم عاجز اور کمزور بندے ہیں مگر ہیں تو تیرے ہی بندے۔اے ہمارے رب ! کبھی ایسا نہ ہو کہ ہم عہد شکن ہو کر ثواب کے کاموں سے محروم ہو جائیں اور عہد شکنی کی سزا تیری طرف سے ہمیں ملے۔اے ہمارے محبوب! ہم ہمیشہ اپنے عہد پر قائم رہنے کی تجھ سے توفیق حاصل کرتے رہیں اور ہمیشہ تیری ہی رضا ہمارے شاملِ حال رہے اور تیرے انعامات بے پایاں کا جو سلسلہ اسلام میں جاری ہوا ہے اس کا تسلسل کبھی نہ ٹوٹے۔اے ہمارے رب ! اپنے قہر کی گرفت سے ہمیں محفوظ رکھیو۔تیرے غصہ کی ہمیں برداشت نہیں۔تیری گرفت شدید ہے، کچل کر رکھ دیتی اور ہلاک کر دیتی ہے۔ہم عاصی ہیں ہمیں معاف فرما۔ہم سے گناہ پر گناہ ہوا اور کوتاہی پر کوتاہی، اپنی رحمت کی وسیع چادر میں ہماری سب کمزوریوں کو چھپالے ہمیں اپنی رحمتوں سے ہمیشہ نواز تارہ۔تُو ہمارا محبوب آقا ہے۔تیرے دامن کو ہم نے پکڑا، دامن جھٹک کے ہمیں پرے نہ پھینک دینا۔ہماری پکار کوٹن اور اسلام کے ناشکرے منکروں کے خلاف ہماری مدد کو آ اور ان کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ۔اے ہمارے رب ! تیری راہ میں جو بھی سختیاں اور آزمائشیں ہم پر آئمیں اُن کی برداشت کی قوت اور طاقت ہمیں بخش اور سختیوں اور آزمائشوں کے میدان میں ہمیں ثبات قدم عطا کر، ہمارے پاؤں میں لغزش نہ آئے اور اپنے اور اسلام کے دشمن کے خلاف ہماری مدد کر اور ہماری کامیابیوں کے سامان تو خود اپنے فضل سے پیدا کر دے۔“ اثر و جذب میں ڈوبا ہوا فصیح و بلیغ انگریزی میں یہ خطبہ پندرہ منٹ تک جاری رہا۔پرشوق سامعین پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔در دوسوز میں ڈوبی ہوئی دعاؤں کے زیر اثر کمال عجز و نیاز کی حالت میں ہر ہر دعا پر ان کی زبان سے بے ساختہ آمین آمین کی دھیمی دھیمی آواز میں مسجد کی