خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 34

خطبات ناصر جلد ششم ۳۴ خطبه جمعه ۲۴ ؍ جنوری ۱۹۷۵ء زبان سے بھی صداقت کا انکار کرتا ہے اور پھر اسی کے مطابق اس کے عقائد اور اعمال بھی ہوتے ہیں کیونکہ خود تضاد بھی انسانی زندگی کا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔اس لئے کافر کا تضاد کے گناہ سے بچنا اُسے یہ فائدہ دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ایک وجہ بغاوت و فساد کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لئے جہنم کا سب سے نچلا درجہ مقرر نہیں کرتا لیکن جو آدمی منافق ہے وہ زبان سے تو کہتا ہے میں ایمان لا یا مگر دلی اعتقاد کے فقدان کی وجہ سے اس کے فسق و فجور میں مبتلا ہونا بتاتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لا یا اور ریا کے طور پر بظاہر کچھ نیک اعمال بھی بجالاتا ہے لیکن حقیقی نیکی اس سے اتنی ہی دور ہوتی ہے جتنی زمین آسمان سے دور ہے۔اس لئے اس آیت سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ یہ تضاد والا جو گناہ ہے اس کو خدا تعالیٰ نے نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ إِنَّ الْمُنْفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء : ۱۴۶) کو اس آیت کے ساتھ ملا کر معنی کریں تو ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ اگر چہ منافق آدمی مکذب منکر اور کافر کے ساتھ اعتقادا اور عملاً شامل ہوتا ہے لیکن ایک زائد گناہ وہ یہ کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں تضاد پایا جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے کہ تضاد نہ پایا جائے۔ایک شخص باغی ہے وہ کھلم کھلا کہتا ہے کہ میں ایمان نہیں لاتا اور ایک وہ ہے جو کہتا ہے میں ایمان لاتا ہوں یعنی صرف زبان سے ایمان لاتا ہے مگر نہ اس کا اعتقاد ایمان کے مطابق ہوتا ہے اور نہ اس کے اعمال ایمان کے مطابق ہوتے ہیں۔پس منافق کا ایک گناہ منکر اور کافر سے زیادہ ہوتا ہے باقی گناہ برابر ہوتے ہیں اس لئے فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کی سمجھ آگئی کہ کیوں منافقین کو زیادہ سزا دی گئی ہے۔ویسے تو ہم قرآن کریم کی ہر آیت پر ایمان لاتے ہیں چاہے اس کی ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن عظیم کو ایک حکمت والی کتاب بنایا ہے اس لئے وہ ساتھ ساتھ سمجھاتا اور دلیل بھی دیتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ رَبُّكُم ذُو رَحْمَةٍ واسعة میں یہی مضمون بیان فرمایا ہے که رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَی ءٍ (الاعراف: ۱۵۷) اور اس طرح بتایا ہے کہ میں (اللہ ) رحمت واسعہ کا مالک ہوں۔اگر چہ یہ درست ہے اور یقیناً درست ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا جلوہ اللہ پر ایمان لانے والے، اس سے تعلق رکھنے والے، اس پر جاں نثار کرنے والے اور اس کے