خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 32
خطبات ناصر جلد ششم اور اس کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔۳۲ خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۷۵ء میں نے چھوٹی سی آیت جو ابھی تلاوت کی ہے، اس میں ہر دو پہلوؤں کے متعلق ہمیں ایک بات بتائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول! اگر نوع انسان میں سے ایک گروہ تیری تکذیب کرے اور تصدیق نہ کرے تو اس سے تیری بعثت کے مقصد پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ تیرے ماننے والے بھی موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمتوں کے مورد ہیں۔یہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ ایک لفظ استعمال ہوتا ہے اور اس کے متضاد معنے بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔اس لفظ کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ اس کے دوسرے معنوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔پس اگر چہ اس آیہ کریمہ میں فَإِنْ كَذَبُوكَ کہا ہے لیکن کذب اور صدق عربی زبان میں ایک دوسرے کے مقابلے میں استعمال ہوتے ہیں۔کذب کے معنے ہیں جھٹلانا اور کذب کے معنے ہیں جھوٹ کی طرف منسوب کرنا۔یہ قولاً بھی ہے اور اعتقاداً بھی۔یعنی وہ اعتقاد جس کے نتیجہ میں عمل پیدا ہوتا ہے اس معنی میں بھی اسے استعمال کرتے ہیں اور جیسا کہ میں ابھی بتاؤں گا اس آیت میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ ہر دو پر حاوی ہے یعنی کذب کے ساتھ صدق کے معنے بھی مضمر ہیں یعنی اپنے قول سے بھی تصدیق کرنا اور اعتقاد بھی ایسا ہی پختہ رکھنا کہ جس کے نتیجہ میں عمل پیدا ہوتا ہے۔پس جہاں یہ بیان ہوا کہ نوع انسان میں سے جن کی طرف قرآن عظیم جیسی کامل اور مکمل کتاب نازل ہوئی اور یہی وہ کامل اور مکمل شریعت ہے جسے انسان کامل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے مگر ان لوگوں کا ایک حصہ اسے جھوٹ کی طرف منسوب کرتا ہے اور چونکہ لوگ اسے جھوٹ سمجھتے ہیں اس لئے کہتے ہیں ہم اس پر عمل نہیں کریں گے۔فرمایا ایک دوسرا گروہ ہے جو تصدیق کرتا ہے قول سے بھی کہ خدا تعالیٰ کا ایک سچا اور کامل رہبر ہماری طرف آ گیا اور دل سے بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں اور قرآنی ہدایات کے مطابق اعمال بجالاتے ہیں۔چونکہ یہ دوسرا گروہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رحمت کا تعلق ہوتا ہے اس لئے جو اُن کی جز اتھی اُسے پہلے بیان کر دیا اور فرمایا :۔فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَّبِّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ۔