خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 483 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 483

خطبات ناصر جلد ششم ۴۸۳ خطبہ جمعہ ۲۵ جون ۱۹۷۶ء ذمہ داری امن اور آشتی کے ماحول میں ہی ادا کی جاسکتی ہے۔فساد اور درندگی کے مظاہروں کے ماحول میں شہری حقوق ادا نہیں کئے جاتے نہ ان کا ادا کیا جانا ممکن ہے۔پس شہری ذمہ داریاں انسان انسان کے ہر قسم کے باہمی رشتوں سے تعلق رکھنے والی ہیں اور ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا لیکن خواہ قانون نے ان حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داری ایک شہری پر ڈالی ہو یا نہ ڈالی ہو اور نہ ڈالنے کی صورت میں اگر شریعت اسلامیہ نے وہ ذمہ داری ایک احمدی مسلمان پر ڈالی ہو تو ان حقوق کو ادا کرنا ایک احمدی مسلمان کے لئے ضروری ہے۔دوسری ذمہ داری جو ایک احمدی کی ہے اور جس کے متعلق شروع سے ہی جماعت کی تربیت کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ قانونِ ملکی کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔ہمارے متعلق Law Abiding People کہا جا سکتا ہے کہ ہم قانون کی پابندی کرنے والے اور قانون کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہیں۔آیت کا جو چھوٹا سا ٹکڑا میں نے سورۃ فاتحہ کے 66 بعد پڑھا تھا اس میں اُولی الامر کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ( تیسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ بھی میں اس کے ساتھ ہی شامل کر لیتا ہوں ) ایک تو ہم Law Abiding یعنی قانون کے پابند اور قانون کی اطاعت کرنے والے لوگ ہیں اور دوسرے جن کو قانون صاحب اختیار بناتا ہے ہم اُن کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں۔یہ بھی اسی کے اندر آجاتا ہے یعنی قانون کی اطاعت کرنا اور قانون شکنی سے بچنا ہی یہ تقاضا کرتا ہے کہ جن لوگوں کو قانون نے حکومت کا اختیار دیا ہے قانون کے اندر رہتے ہوئے اُن کی بھی اطاعت کی جائے۔اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ قانون کے خلاف کوئی کام نہ کریں اور قانون کے خلاف کوئی حکم نہ دیں اور ہر شہری کا یہ فرض ہے اور ہر احمدی کا خصوصاً، جن کو میں اس وقت مخاطب کر رہا ہوں کہ وہ قانون شکنی نہ کریں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔یہ تو میں ذکر کے مطابق کہہ رہا ہوں ورنہ جماعت خدا کے فضل سے بڑی دیر سے اس میدان میں تربیت یافتہ ہے اور ۱۹۷۴ء میں اس نے اس کا اتنا شاندار مظاہرہ کیا کہ ۷۴ گذرا اور اس کے بعد ایک اور سال ۷۵ گذرا اور اب ۷۶ ء میں ہم داخل ہو چکے ہیں ابھی تک بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی کہ احباب جماعت کے لئے یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ