خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 384 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 384

خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۴ خطبه جمعه ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ ء دائرہ کے اندر رہتے ہوئے وہ اتنا پیش کر دیتا تھا اور خدا تعالیٰ کی نگاہ یہ نہیں دیکھتی تھی کہ کسی نے ایک پیسہ دیا ہے اور کسی نے زیادہ دیا ہے۔جس کے پاس زیادہ تھا اس نے زیادہ دے دیا جس کے پاس کم تھا اس نے کم دے دیا۔اموال کے خرچ کا ایک وقتی اعلان ہوتا تھا اور اُمتِ مسلمہ کے مخلصین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اس وقتی ہنگامی ضرورت کے پیش نظر اپنے اموال پیش کر دیتے تھے۔خدا تعالیٰ ایسے اوقات میں ان کی ان قربانیوں کا جو نتیجہ نکالتا تھا اس سے ہم یہ استدلال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے خدا کے حضور ا پنی طاقت کے مطابق پیش کیا اور کہا کہ اے ہمارے رب ! جتنی طاقت تھی ہم نے دے دیا لیکن دشمن کے مقابلہ کے لئے جتنے کی ضرورت تھی اتنا ہم نہیں دے سکے۔اس واسطے جتنی کمی رہ گئی ہے وہ پوری کر دے۔نہ اس قسم کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں جس قسم کی تلوار میں لے کر دشمن حملہ آور ہوتا تھا نہ اس قسم کے سامان ان کے پاس تھے لیکن جو نتیجہ نکلا اس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی طاقت کے مطابق جو پیشکش کی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول کر کے اپنی طرف سے برکت اور رحمت اور فضل کی شکل میں اتنا بیچ میں ڈالا کہ کوئی خامی باقی نہیں رہی۔ہر موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ سلوک کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی پھر خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی اور پھر بعد میں بھی جہاں اسلام کے احکام کی پابندی میں دشمنوں کی یلغار کا مقابلہ کیا گیا اور دشمن کے مقابلہ میں طاقت کم ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے اتنا دیا کہ دشمن کا زور ٹوٹ گیا لیکن جب تک زور نہیں ٹوٹا اس وقت تک ان کی بڑی طاقت تھی۔کسری ایک بہت بڑی طاقت تھی ساری دنیا کے خزانے ان کے پاس تھے۔پھر ” قیصر “ ایک بہت بڑی طاقت تھی جس سے مقابلہ ہوا۔پھر سپین کی طرف سے مسلمان داخل ہوئے اور انہوں نے اپنی حقیر قربانیاں پیش کر دیں ( میں اس وقت تاریخ کے اس حصہ کی طرف نہیں جا رہا کہ پین پر حملہ کی کیا ضرورت تھی۔اس کی ضرورت تھی اور تاریخ نے اسے ریکارڈ کیا ہے وہ بھی دفاعی جنگیں ہی تھیں ) اور دشمن کا زور ٹوٹ گیا اور خدا تعالیٰ نے انہیں بہت کچھ دیا۔انہوں نے خدا کے حضور ابتدا میں جو کچھ پیش کیا تھا وہ تو بالکل حقیر تھا لیکن اس کے مقابل میں ان کو اتنا ملا تھا کہ وہ اس کو نہ سنبھال سکتے تھے ، نہ خرچ کر سکتے تھے۔خرچ اس لئے نہیں کر سکتے تھے کہ