خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 383 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 383

خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۳ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ء کی نیت سے نہیں بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ اپنی طاقتوں کو ضائع اور کمزور نہ کرو کیونکہ یہ بھی خدا کی ناشکری ہے۔پس اگر وہ اس نیت سے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو۔موسم کے لحاظ سے اپنی ضرورت پوری کرتے ہوئے کپڑے پہنتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہے۔اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں متوازن غذا کھلاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حکم کی پیروی اس کی نیت ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا کو حاصل کرتا ہے۔اگر کوئی شخص خدا کے حکم کے مطابق اپنے ہمسائے کا خیال رکھتا ہے اور اس اطاعت حکم میں اسے اپنے مال کا کچھ حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے یا اپنی طاقت کا کچھ حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے مثلاً ہمسائے کو ضرورت ہے اس کے لئے دوالا نے والا کوئی نہیں۔اگر وہ دوا کے لئے باہر جاتا ہے تو اس وقت اس نے اپنی طاقت کا ایک حصہ اپنے ہمسائے کے لئے خرچ کیا اور اس سے بھی ثواب حاصل ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص زمیندار ہے تو وہ اپنے بیلوں کے لئے اپنا وقت خرچ کرتا ہے۔وقت پر ان کے لئے چارہ کاٹ کر لاتا ہے اور ان کو دیتا ہے اور اس کی نیت یہ ہے کہ یہ خدا کی مخلوق ہے یہ بھوکی نہیں رہنی چاہیے اور اس کی نیت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ ایک نعمت عطا کی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے مجھے ان کی صحت کا اور ان کے طاقتور رکھنے کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنے چاہیے۔تو اللہ تعالیٰ اسے ثواب دیتا ہے۔غرض مال اور دولت کے خرچ کی ہزار ہا ایسی راہیں ہیں اپنے پہ خرچ کی ، اپنوں پہ خرچ کی اور اپنے ہمسایوں پر خرچ کرنے کی را ہیں ہیں۔اپنی قوم پر خرچ کرنے کی راہیں ہیں اور بنی نوع انسان پر خرچ کرنے کی راہیں ہیں کہ جو ثواب پر منتج ہوتی ہیں۔خرچ کی کچھ راہیں متعین کر دی جاتی ہیں کبھی عارضی طور پر اور کبھی ایک لمبے عرصہ کے لئے۔مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت تھی کہ جب دشمن سے خطرہ پیدا ہوتا تو آپ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لئے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرتے تو آپ اعلان کرتے کہ اپنی جانیں پیش کرو، اپنے وقت پیش کرو، اپنے مال پیش کرو۔اس وقت جو شخص اپنے دائرہ استعداد روحانی میں جتنا دے سکتا تھا وہ آکر اتنا پیش کر دیتا تھا یا اپنے دائرہ استطاعت مال میں جتنا دے سکتا تھا اس