خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 345
خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۵ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء پس دو دوستوں کے درمیان خواہشات کے اظہار اور ان کے قبول یارڈ کا جو دستور ہمیں نظر آتا ہے وہی خدا تعالیٰ نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان قائم کیا ہے یعنی دوست کبھی اپنے دوست کی بات مانتا ہے اور کبھی اپنے دوست سے اپنی بات منواتا ہے۔عموماً دنیا میں یہ نظر آتا ہے یہ کوئی الجھا ہوا مسئلہ نہیں ہے۔وہ دوست نہیں جو ساری ہی باتیں منواتا چلا جائے۔وہ تو جب انسان غلام رکھا کرتا تھا غلام بھی بعض دفعہ ساری باتیں نہیں مانتا تھا دوست کا تو سوال ہی نہیں۔غرض دوستی کا معیار اور دوستی کی بنیاد یہ ہے کہ کبھی دوست دوست کی بات مانتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے لیکن جہاں تک خدا تعالیٰ اور بندے کا تعلق ہے، وہ تو خالق اور مخلوق ، معبود اور عبد کا تعلق ہے لیکن عبد اور مخلوق ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کا انسان سے سلوک یہ ہے کہ کبھی اس کی بات مان لیتا ہے اور کبھی کہتا ہے اپنی بات منواؤں گا۔کبھی وہ کہتا ہے آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل: ۶۳) یعنی جس وقت انسان اضطرار کی حالت میں نیکی اور فدائیت کے جذبات لے کر اس کی طرف جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اُس کی دعا کو قبول کرتا ہے اور اس کے اضطرار کو دور کر دیتا ہے اور کبھی قرآن کریم میں یہ اعلان ہوتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ (البقرة:۱۵۶) ہم تمہیں آزمائیں گے۔اب یہ فیصلہ کہ ہم تمہاری آزمائش کریں گے۔ہم تمہارا امتحان لیں گے اس فیصلے کے مقابلے میں تو ساری دنیا کی دعائیں رد ہوں گی کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تم میری بات مانو۔اب ایک طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی قبولیت ہے اور یہ ایک حقیقت ہے ہم محبت رسول کی وجہ سے کوئی مبالغہ نہیں کر رہے بلکہ ہماری روح ، ہماری عقل ، ہمارا وجدان اور ہماری قوت استدلال ہمیں اس نتیجہ پر پہنچاتی ہے کہ آپ نے اس قدر دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس قدر دعائیں قبول کیں کہ انسانی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا اور وہ جوسینکٹروں سال کے مردہ پڑے ہوئے تھے اُن کے اندر زندگی کے آثار پیدا ہو گئے۔دوسرے مکی زندگی میں خدا تعالیٰ نے ابتلاء اور امتحان پیدا کئے۔رؤسائے مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے اور مسلمان بھی دعائیں کر رہے تھے۔خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں تھیں لیکن مکی زندگی کے ابتلاء کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے دعا سے منع کیا گیا تھا کیونکہ