خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 333 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 333

خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۳ خطبہ جمعہ ۱۳ رفروری ۱۹۷۶ء ( دونوں شکلیں ہوتی ہیں ) تو پھر آگ سینکنے سے وہ دور ہو جاتی ہے۔جو لوگ محض اسباب کو دیکھتے ہیں اور ان اسباب کے پیچھے جو حقیقت ہے اس پر ان کی نظر نہیں جاتی وہ لوگ ان کی پرستش شروع کر دیتے ہیں اور ان کو خدا ماننے لگ جاتے ہیں۔کھانے کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی ہے کہ بعض لوگ یہ کہیں گے کہ جی ہمیں کچی گندم پھانکنی پڑتی لیکن آگ نے ہماری بھوک دور کرنے کا سامان پیدا کر دیا یعنی یا تو بھٹی میں دانے بھونے گئے یا توے کے اوپر روٹی پکی۔آگ کے بغیر تو روٹی نہیں پک سکتی چنانچہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو آگ کی پرستش کرنے لگ گئے کیونکہ اُنہوں نے اس سبب کو جس نے اور بہت ساری باتوں کا علاج کیا تھا اور ان کا سبب بنا تھا اس کو ہی خدا سمجھ لیا۔افریقہ میں اور ہندوستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جن درختوں کی وہ لکڑی استعمال کرتے ہیں یا ان کے سایہ کے نیچے تپش سے بچتے ہیں یا اور بہت سے فوائد اٹھاتے ہیں وہ ان درختوں کی ہی پوجا کرنے لگ گئے اور اس سبب کی ہی پرستش شروع کر دی۔پھر دنیا میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کے لئے جو دوائی تھی اس کو وہ دوا کے طور پر استعمال نہیں کر سکے اور اس کے غلط استعمال کے نتیجہ میں انہیں دُکھ پہنچا مثلاً سانپ سے جس غرض کے لئے کہ وہ ہے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے اور اُس نے بچے کو کا ٹا اور گھر والوں کو بڑی پریشانی اٹھانی پڑی اور یہ مثال جو میں دے رہا ہوں اس میں میں کہتا ہوں کہ پریشانی کے بعد علاج کے ساتھ وہ بچہ اچھا ہو گیا لیکن چونکہ دس پندرہ دن پریشانی کے گزرے تو اُنہوں نے کہا کہ اس بلا سے نجات پانے کے لئے ہمیں اس بلا کی پرستش شروع کر دینی چاہیے اور اُنہوں نے سانپ کی پوجا شروع کر دی۔آج کی دنیا میں بھی سینکڑوں مثالیں ملیں گی اور انسانی تاریخ میں بھی ہزاروں مثالیں ایسی ملیں گی کہ انسان نے سب کو ہی سب کچھ سمجھ لیا اور جو اس سبب کو پیدا کرنے والا تھا یعنی اللہ ، وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ابھی میں نے ایک مثال دی ہے کہ آج کا دہر یہ یہ اعلان کرنے لگ گیا کہ ہمارے عوام ہمارا خدا ہیں۔یہ میں نے خود پڑھا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارے عوام بڑی محنت کرتے ہیں ، راتوں کو جاگتے ہیں، بڑی تکلیف اٹھاتے ہیں اور بڑی سمجھ کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور اُنہوں نے اپنی اس محنت اور فراست کے نتیجے میں