خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 324
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۴ خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۷۶ ء محض اُخروی حسنات کے لئے دعا نہیں سکھائی بلکہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ : ۲۰۲) کی دعا سکھائی ہے گویا دنیا کی حسنات ذریعہ بنتی ہیں اُخروی حسنات کے حصول کا اور جس کو اُخروی حسنات یعنی روحانی حسنات مل جائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قہر کی آگ سے بچائے جاتے ہیں۔پس شجر کاری کا موسم شروع ہو گیا۔حکومت کی طرف سے بھی اعلان ہو چکا ہے اور قوم کی بھلائی کے لئے یہ منصوبہ ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے زیادہ قوم کا درد ہمارے دل میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں حسن عمل کی توفیق عطا فرمائی ہے اس لئے میں احباب جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو وہ درخت لگائیں اور پھر ان کو پالیں۔میں ربوہ کی مثال لیتا ہوں ربوہ والوں کو سمجھانے کے لئے کیونکہ اس وقت براہ راست وہی میرے مخاطب ہیں۔درخت لگاتے وقت دوست اس بات کو یا درکھیں کہ ایسا نہ ہور بوہ کا ایک حصہ درخت لگائے اور دوسرا حصہ صبح و شام بکریاں لا کر ان درختوں کو چروا دے۔بکری کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ انسان کو نقصان پہنچائے جس آدمی نے بکری رکھنی ہے وہ اس کے چارے کا ایسا انتظام کرے کہ اجتماعی فوائد کو نقصان نہ پہنچنے پائے۔میں نے کچھ درختوں کی پنیری لگوائی تھی۔ہمارے پاس سے بھی درختوں کی قلمیں مل جائیں گی میرا چھوٹا بیٹا لقمان احمد زمینوں پر کام کرتا ہے میں نے آج ہی اس کو کہا ہے ربوہ کے منتظمین سے کہو درختوں کی بہت سی قلمیں دستیاب ہیں وہ لے لیں اور محلوں میں تقسیم کر کے لگوادیں۔دوست گھروں میں بھی درخت لگائیں۔اس کے لئے اگر تھوڑا سا زیادہ پیسہ خرچ کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں اور پھر محنت اور توجہ سے درختوں کی پرورش کریں اور فائدہ اٹھائیں۔یہاں ہماری جونرسری یا پنیری کی جگہیں ہیں جہاں درختوں کے پودے فروخت ہوتے ہیں ان کا معیار بڑا گھٹیا ہے۔ایک تو ایک فٹ کا پودا دے دیتے ہیں اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے چار پانچ سال لگ جاتے ہیں دوسرے اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ درخت بڑا ہو کر اچھا پھل بھی دے گا یا نہیں مثلاً آپ نے مالٹا لگایا اور چھ سال تک پرورش کرنے کے بعد جب اس کو پھل لگے