خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 322
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۲ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۶ء کروڑوں درخت لگے ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ شروع میں ہر سال پاکستان کے درختوں کی مجموعی تعداد میں کمی واقع ہوتی رہی ہے۔اب پچھلے دو چار سالوں میں شاید کچھ سنبھالا ہولیکن شروع میں تو یہ حال تھا کہ ہر سال کروڑوں درخت لگانے کے باوجود پہلے سے کم درخت پاکستان میں موجود تھے کیونکہ جو درخت لگائے گئے ان کو ضائع کر دیا ان کو پالا نہیں اور جو پلے ہوئے تھے ان کو کاٹ کر استعمال کر لیا کیونکہ درخت بہر حال استعمال ہونے والی چیز ہیں اور وہ اسی کام کے لئے لگائے جاتے ہیں۔میں ربوہ میں کئی سال سے درخت لگانے کی تحریک کر رہا ہوں اس کا کچھ تو فائدہ ہوا ہے۔ایسی بہت سی جگہوں پر اب درخت نظر آتے ہیں جہاں پہلے کوئی درخت نہیں تھا لیکن جو میں چاہتا ہوں کہ ہر طرف درخت ہوں اور بڑی صحت مند ہوا ہو جس میں ہم سانس لے رہے ہوں وہ کیفیت ابھی تک پیدا نہیں ہو سکی۔درخت تو ہر قسم کے لگانے چاہئیں پھلدار بھی اور لکڑی کے لئے سایہ دار بھی۔ہر قسم کا درخت ہماری خدمت پر مامور ہے۔ہوا کو صاف کرنے کے لئے بھی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اور بہت سی خدمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے درخت کے سپرد کی گئی ہیں۔ربوہ میں درخت لگانے کا کام خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا گیا تھا اور غالباً انصار اللہ کے بھی، اگر پہلے نہیں کیا تھا تو آج میں انصار اللہ کے سپر د بھی کر دیتا ہوں۔علاوہ ازیں ہماری مقامی تنظیم ہے وہ بھی ذمہ دار ہے۔سب مل کر کوشش کریں کہ محلوں میں کوئی جگہ جہاں درخت لگ سکتا ہے اس کو بہر حال خالی نہ چھوڑیں اور اگر درختوں کو ٹھیک طرح پالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ درخت بڑھنے نہ لگ جائیں۔تاہم بعض ایسے درخت ہیں جو بڑے صبر آزما ہوتے ہیں مثلاً بڑ کا درخت ہے جو پندرہ بیس سال کے بعد بھی ایسا نہیں ہوتا جس کا سایہ ٹھیک طرح انسان کے کام آسکے گو یہ ایک بڑی عمر پانے والا درخت ہے لیکن بہت آہستہ آہستہ بلوغت کو پہنچتا ہے اس کے مقابلے میں بعض ایسے درخت بھی ہیں جن کی بہت جلدی نشو و نما ہوتی ہے وہ بہت جلد قد نکالتے اور پھیل جاتے ہیں ان میں سے ایک شہوت ہے جو بڑا پھل دیتا ہے اور اس کا پھل بھی بڑا اچھا ہوتا ہے اگر کوئی شخص شہتوت کا ایک درخت لگا دے تو موسم میں اس کا پھل بھی مل جائے گا بلکہ ہمسائے اور محلے کے