خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 274
خطبات ناصر جلد ششم ۲۷۴ خطبہ جمعہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۷۵ء انہوں نے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیں۔وہ ہر دم اور ہر آن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے رہے اور اسی میں اپنی عزت سمجھتے رہے اور اسی میں اپنی فلاح پاتے رہے اور اسی کے ذریعہ اُخروی زندگی میں اپنے لئے جنتوں کی تلاش کرتے رہے۔ایک گروہ تھا جو آپ کی صداقت کا منکر ہوا۔اس گروہ میں سے آہستہ آہستہ ایمان لا کر کئی لوگ جماعت مومنین میں شامل ہوئے یا پھر اپنے اپنے وقت پر اس جہان سے کوچ کر گئے اور اُن کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے جا پڑا۔جس سلوک کے وہ مستحق تھے وہ اُن سے ہوا ہو گا لیکن چونکہ اُس زندگی سے ہمارا تعلق نہیں اس لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے جو وعدہ کیا ہے اس کے مطابق اُن کو یقینا سزا دی ہوگی۔ایک تیسرا گروہ جو بڑا نما یاں ہوکر ہمارے سامنے آتا ہے وہ منافقین کا گروہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں جس قسم کا خبیثا نہ نفاق پایا جاسکتا ہے اور جس کا ذکر خود قرآن کریم نے کیا ہے اُس کے متعلق یہ سمجھنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں ایسا نفاق ظاہر نہیں ہو گا صحیح نہیں ہے۔اس بات کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔قرآن کریم نے ایک جگہ پر یہ ہدایت کی ہے کہ منافقوں کی سال میں (مرة او مرتين ) ایک دو بار آزمائش کرتے رہنا چاہیے اور اُن کو ٹو لتے رہنا چاہیے۔ان سے بھی بعض اصلاح کر لیتے ہیں اور بعض گند کے اس مقام پر جہاں کھڑے تھے وہاں کھڑے رہتے ہیں یا بعض اس گند میں ترقی کرتے ہیں بہر حال الہی سلسلوں کو چوکس اور بیدار رہ کر اپنی اجتماعی ، اخلاقی اور روحانی زندگی گزارنی چاہیے۔اس وقت میں اس سلسلہ میں بعض آیات جن کا میں نے انتخاب کیا ہے پڑھوں گا اور ساتھ اُن کا ترجمہ کروں گا۔ویسے قرآن کریم نے بہت سے دیگر مقامات پر بھی منافقین کا ذکر کیا ہے لیکن اگر وہ آیات بھی میں پڑھنے لگوں تو یہ بہت لمبا مضمون بن جائے گا اس لئے میں نے چند آیات کو منتخب کیا ہے دوست ان کو غور سے سنیں۔قرآن عظیم نے ہماری بھلائی اور ہدایت کے لئے جو باتیں بیان کی ہیں انہیں سمجھنے کی کوشش کریں انہیں یا درکھیں اور ان سے فائدہ اٹھا ئیں۔سورۃ بقرہ کی ابتدا میں تینوں گروہوں کا ذکر ہے تیسرے گروہ کا ذکر سے شروع ہوتا ہے۔