خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 218

خطبات ناصر جلد ششم ۲۱۸ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۷۵ء روزی نہیں کما رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی عمروں میں برکت ڈالے اور جو ہنر وہ سیکھ رہے ہیں خدا کے فضل سے اس میں وہ ترقی کریں) وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے آئندہ کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی وعدے لکھوا سکتے ہیں اور اس گروہ میں سے بہتوں نے اپنے وعدے لکھوا دیئے تھے۔لندن میں انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارا جو ایک سال کا حصہ بنتا ہے یعنی قریباً چالیس ہزار پاؤنڈ اس میں سے تین ہزار پاؤنڈ اس ننھے مخلص احمدی گروہ کا ہے جنہوں نے ابھی کمانا شروع نہیں کیا۔میں نے کہا ٹھیک ہے اس رقم کو ابھی اس سال میں شامل نہ کرو وہ تو اگر آپ جمع نہ کر سکیں تو آپ کے اوپر کوئی حرف نہیں آئے گا۔میں قوی امید رکھتا ہوں اور ہر وقت دعائیں کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس نسل کی امیدوں سے زیادہ انہیں دنیا کے اموال بھی دے تا کہ جس جذبہ کے ساتھ انہوں نے خدا کی راہ میں مالی قربانیاں پیش کی ہیں ( نہ صرف اس منصوبہ کے سلسلہ میں بلکہ اور دوسرے منصوبوں میں بھی) اس کے مطابق اپنے وعدوں سے زیادہ وہ ادا ئیگی کرسکیں لیکن بہر حال وہ ادائیگیاں تو اپنے وقت پر ہوں گی۔پھر ایک دوسرا گروہ ہے جنہوں نے آئندہ بڑھنے والی آمد کی توقع پر زیادہ وعدے کئے ہیں۔وہ حصہ جو توقع کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس کے لئے انہوں نے اللہ پر بھروسہ رکھا ہے اور خدا تعالیٰ ان کے اس اعتماد کو ضائع نہیں کرے گا اور ان کی دولت اور ان کے اموال میں برکت ڈالے گا، انشاء اللہ۔لیکن جو وہ اس وقت کما رہے ہیں اس کے لحاظ سے وعدے کا پندرھواں حصہ پہلے سال میں اور پندرھواں حصہ دوسرے سال میں یعنی دو سالوں کا ملا کر ۲۱۵ تو انہوں نے بہر حال پہلے دو سال میں ادا کرنا ہے۔اس منصوبہ کی تیاری عملاً ساتھ ساتھ شروع ہوگئی ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ میں ایک مسجد کی بنیا درکھ کر آیا ہوں جس کا صد سالہ احمد یہ جو بلی منصوبہ سے تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے بنیاد کے ساتھ ہی وہاں جماعت کی مضبوطی کے سامان بھی پیدا کر دیئے ہیں۔ابھی کل ہی مجھے وہاں سے ایک اور خط ملا ہے کہ کچھ اور یوگوسلا و احمدی ہو گئے ہیں۔ان کے اندر ایک رو پیدا ہوگئی ہے اور مسجد میں اور مشن ہاؤسز یہ ہمارے مراکز ہمارے کیا یہ خدا کے گھر خدا کے نام کو بلند کرنے کے مراکز بنتے ہیں۔جس ملک میں اس قسم کا کوئی بھی مرکز نہ ہو اس ملک میں خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم