خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 2

خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۷۵ء رحمتیں عالمگیر اور بین الاقوامی حیثیت کی تھیں اور بہت سے احمدیوں کی نظر سے بھی اوجھل تھیں، پچھلا سال انہیں نمایاں کر کے ہمارے سامنے لے کر آیا۔پچھلا سال صد سالہ جو بلی تحریک کا پہلا سال تھا۔جماعت احمدیہ نے پہلی بار اشاعت اسلام کے بین الاقوامی منصوبوں کی ابتدا کی تھی۔بعض ملکوں کو اکٹھا کر کے اُن میں تبلیغ اسلام اور اشاعتِ قرآن کریم کے منصوبے بنائے گئے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں نے انہیں کامیاب بھی کیا۔گویا اشاعت اسلام کے عالمگیر اور بین الاقوامی منصوبے کی ابتدا گزشتہ سال یعنی ۱۹۷۳ء کے جلسہ سالانہ پر ہوئی تھی جس کے نتیجہ میں ایک عالمگیر بین الاقوامی مخالفت کی بھی ابتدا ہوئی اور ہونی بھی چاہیے تھی کیونکہ حاسدوں کا حسد ہمیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پیار دیکھنے کے مواقع میٹر کرتا ہے۔غرض صد سالہ جوبلی منصوبہ کی ابتدا ہو چکی ہے یہ اس منصوبہ کا دوسرا سال ہے۔بالفاظ دیگر ایک اور سال ہے ہماری اور جماعت احمدیہ کی زندگی کا جس میں ہم داخل ہو رہے ہیں۔انفرادی حیثیت سے ہم میں سے ہر شخص بچہ، جوان اور بوڑھا، مرد اور عورت اپنے بڑھاپے کی طرف حرکت کر رہا ہے مگر جماعتی حیثیت سے ہم ہر سال اپنی جوانی کی طرف اور اپنی کامیابیوں کی طرف حرکت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایک خاص مقصد کے لئے قائم کیا ہے۔اس درخت کو ایک خاص قسم کے پھلوں کے لئے اور خاص قسم کی برکتوں کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لئے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے کہ نوع انسانی سوائے استثنائی طور پر چند محروموں کے، اسلام کے اس درخت کے سایہ سے اور اس کے پھلوں سے فائدہ حاصل کرے گی لیکن آج کا زمانہ اس درخت کی نشو و نما کا زمانہ ہے۔کچھ خوش نصیب لوگ ہیں جو اس کی شاخوں پر بسیرا کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ مستقبل ان کو خدا کے پیار کے نتیجہ میں اس طرف لے آئے گا اور وہ اس کی شاخوں پر بسیرا کریں گے۔ایک دن نوع انسانی ساری کی ساری اس درخت کی شاخوں پر بسیرا کر رہی ہوگی اور وہ منصوبہ جو آسمانوں پر بنایا گیا ہے اور جس کی بشارت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت محمدیہ کو دی تھی وہی منصوبہ کامیاب ہو گا اور دنیا اپنے پیدا کرنے والے رب کی معرفت حاصل کر چکی ہوگی اور اس کی رحمتوں سے حصہ لینے والی ہو