خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 199
خطبات ناصر جلد ششم ١٩٩ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء یہ ہماری کوششوں یا ہمارے اموال کا نتیجہ نہیں ہے پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دولت کے انبار، محض دولت کے انبار دیکھ کر تو خدا تعالیٰ نتائج نہیں نکالا کرتا وہ تو دلوں کوٹٹولتا ہے یہ محاورہ ہے ورنہ اس سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہ تو دلوں کی کیفیت کو دیکھتا ہے اگر ان میں تقویٰ ہواگر خدا تعالیٰ ان میں اپنا پیار پالے اگر ان دلوں میں خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے عشق پائے تو وہ ان کے دو پیسے میں وہ برکت ڈالے گا کہ ساری دنیا کے اموال وہ برکت نہیں پیدا کر سکتے۔پس تحریک جدید کو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے ایک وسیلہ بنایا ہے جس کے نئے سال کا میں نومبر کے شروع میں اعلان کیا کرتا ہوں۔یہ جو سال نو ہے یہ دفتر اول کا بیالیسواں سال اور دفتر دوم کا بتیسواں سال اور دفتر سوم کا گیارھواں سال ہے۔پچھلے سال یعنی دفتر اول کے اکتالیسویں سال دفتر دوم کے اکتیسویں سال اور دفتر سوم کے دسویں سال کے مجموعی وعدے نو لاکھ چوالیس ہزار تک پہنچ چکے ہیں جبکہ میں نے جو تحریک کی تھی وہ سات لاکھ نوے ہزار کی تھی۔غرض مخلصین جماعت نے اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے جتنی تحریک کی گئی تھی اس سے زیادہ کے وعدے کر دیئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں ان وعدوں کے پورا کرنے کی توفیق عطا کرے۔ہرسال ہمارے وعدے پہلے سے کچھ زائد ہوتے ہیں کیونکہ ہم ایک جگہ ٹھہر نے والی جماعت نہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں اور میں دعا بھی کرتا ہوں اور کرتا بھی رہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا کرے کہ آئندہ سال ہمارے وعدے پچھلے سال سے یعنی جو سال گزر رہا ہے اس کے وعدوں سے زائد کے ہو جائیں۔اس وقت تک جو گزشتہ سال کی وصولی ہوئی ہے وہ قریباً پچاس فیصد ہے لیکن تحریک جدید کا طریق یہ ہے کہ نئے سال کا اعلان تو نومبر کے شروع میں ہو جاتا ہے لیکن پچھلے سال کی ادائیگی ۱/۳۰اپریل تک ہوسکتی ہے اور بیچ میں Overlapping (اور لیپٹنگ ) ہے۔مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ ۱/۳۰ پریل تک جماعت اپنے وعدوں کو پورا کر دے گی۔باقی دفتر والوں نے مجھے ایک اور مشورہ دیا تھا وہ میں قبول نہیں کرتا اس سال کے جو وعدے ہیں ان سے زائد وعدے اور جو اس سال کی وصولی ہوگی اس سے زیادہ وصولی ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق عطا کرے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کا شکر بجالانے