خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 191

خطبات ناصر جلد ششم ۱۹۱ خطبہ جمعہ ۷ نومبر ۱۹۷۵ء پر اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے خرچ کرے بلکہ ابتدائے اسلام سے اللہ تعالیٰ نے اس کی راہنمائی کا انتظام کیا ہے۔ابتدا تو ہوئی اس عظیم ہستی سے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ جن کی عظمت اور جلالت کا تصور میں بھی انسانی ذہن احاطہ نہیں کر سکتا۔آپ اعلان کرتے تھے کہ خرچ کرو۔آپ کی طرف سے یہ اعلان ہوتا تھا کہ یہ راہ ہے خرچ کرنے کی اس میں مال دو۔کبھی جب دشمن تلوار سے حملہ آور ہوتا تھا تو اس کے مقابلہ کے لئے مال کو خرچ کرنے کی ندا آتی تھی۔اپنے اوقات کو خرچ کرنے کی ندا آتی تھی کہ کاموں کو چھوڑو اور اسلام کی حفاظت کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یا آپ کے مقرر کردہ سپہ سالار کی معیت میں کام کاج ہر چیز کو چھوڑ کر باہر نکلو اور اپنے وقتوں کو خرچ کرو اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ان کو یہ کہا جاتا کہ شہادت ایک عظیم انعام ہے ہو سکتا ہے تمہیں وہ بھی مل جائے۔زندگی کے لمحات کا خدا کی راہ میں خرچ کرنا یہ بھی ایک طریق ہے خدا کی راہ میں زندگی وقف کر دینے کا اور خدا کی راہ میں شہادت کو قبول کر لینا یہ موت بھی جو اس نے عطا کی ہے عظیم احسان ہے۔انسان کی موت ایک عظیم پس منظر رکھتی ہے۔اس موت کو خدا کے لئے قبول کر لینا اور ابدی جنتوں کا وارث بن جانا یہ بھی ایک عظیم انعام ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلاتے تھے اموال کے خرچ کرنے کی طرف، بلاتے تھے اوقات کے خرچ کرنے کیلئے ، بلاتے تھے جانوں کو دے دینے کیلئے مٹھی بھر صحابہ تھے جو غیر تربیت یافتہ تھے۔ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی ان کو پوری مشقیں نہیں تھیں۔ان کی پہلی زندگی کچھ اس رنگ کی تھی کہ ان کو زیادہ تلوار چلانے کی بھی پہلے عادت نہیں تھی لیکن اسے کون دیکھتا تھا کہ مجھے تلوار چلانی آتی ہے یا نہیں۔وہ تو یہ دیکھتے تھے کہ خدا کی راہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز جب بلائے تو اس آواز پر لبیک کہنا ہماری زندگی کا بہترین ثمرہ اور بہترین انعام ہے لیکن ہماری زندگیوں میں آج کے زمانہ میں تو تلوار کی جنگ کے لئے نہیں بلا یا جا تا۔اس زمانہ کے حالات ایسے ہیں کہ دشمن نے جو صدیوں یہ اعتراض کیا کہ اسلام نعوذ باللہ تلوار کے زور سے پھیلا تھا اگر چہ یہ جہالت کا الزام تھا، یہ حماقت کا الزام تھا، یہ شرارت کا الزام تھا، یہ شیطنت کا الزام تھا مگر تاہم یہ ایک الزام تھا۔دنیا میں اس الزام اور اس اعتراض کو اتنا دہرایا گیا کہ مثلاً عیسائی دنیا