خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 129

خطبات ناصر جلد ششم ۱۲۹ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۵ء اس کی حمد ادا نہیں ہوتی کہ اُس نے اول ہمیں اس زمانے میں پیدا کیا اور پھر ہمیں مہدی معہود کی شناخت کرنے کی توفیق دی اور پھر ہمیں یہ توفیق بھی دی کہ مہدی کے اس کام میں جس کے لئے وہ مبعوث ہوا تھا اس میں تھوڑا سا ہمارا بھی حصہ ہو گیا اور اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کی عظیم الشان مہم میں ہمیں بھی تھوڑی بہت قربانیاں دینے کی توفیق ملی مگر جیسا کہ ایک محاورہ ہے ” کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ ہم کیا ہیں اور ہماری یہ Contributions کیا ہیں اور خدمت اسلام میں ہمارا یہ حصہ کیا حیثیت رکھتا ہے لیکن خدا تعالیٰ جو بڑی پیار کرنے والی ہستی ہے اور اپنے بندوں سے بے حد پیار کرتا ہے اس کی یہ شان ہے کہ وہ کہتا ہے اپنی انگلی کٹاؤ میں تمہیں شہیدوں میں شامل کر دوں گا تھوڑی سی قربانیاں دو میں تمہیں ان کے بہترین نتائج اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی عطا کروں گا اور تمہیں اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کروں گا۔ان وعدوں کے ہوتے ہوئے تم آپس میں لڑائیاں کرتے ہو اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں جھگڑتے ہو۔اگر تم نے مہدی پر ایمان نہیں رکھنا، اگر تم نے غلبہ اسلام کی اس مہم میں شامل نہیں ہونا، اگر تم میں سے کسی نے اُن برکات میں سے حصہ نہیں لینا جن کی بشارتیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہیں تو پھر تمہیں کس نے مجبور کیا ہے کہ جماعت احمدیہ میں رہو۔ایسی صورت میں نہ خدا کو تمہاری ضرورت ہے اور نہ خدا کے اس سلسلہ کو کسی کی ضرورت ہے۔ہم خدائے واحد و یگانہ پر ایمان رکھتے ہیں خدا اپنے وعدوں کا سچا ہے وہ مہدی کے مشن کو پورا کرے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر ایک قوم چلی جائے گی تو میں اُس کی جگہ ایک اور قوم لے آؤں گا جو میری راہ میں قربانیاں کرنے والی ہوگی۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس زمانے میں اسلام کی تعلیم تمام تعلیموں پر غالب آئے گی اور اس کی حقانیت کا ہر انسان قائل ہو گا۔یہ تو ہو کر رہے گا ہم نے تو تھوڑی سی قربانیاں دے کر خدا تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو حاصل کرنا ہے۔تم اس کے حصول کی طرف توجہ کیا کرو اور ذرا ذراسی دنیوی باتوں کی طرف توجہ کر کے اپنی عاقبت خراب کرنے کی کوشش نہ کرو۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رحم کرے گو ایسے لوگ گنتی کے چند ہیں مگر ایک بھی کیوں؟ مجھے اس بیماری میں ایسے لوگوں کی وجہ سے بڑی سخت تکلیف پہنچی اور آج بھی۔ٹھیک ہے اس وقت مجھے جوش آ گیا