خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 100

خطبات ناصر جلد ششم 10+ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء عظیم انسان کہ نہ کسی ماں نے پہلے جنا اور نہ آئندہ جن سکتی ہے مگر پھر بھی آپ فرماتے ہیں اے عائشہ! میری مغفرت بھی خدا کے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔حدیث میں آتا ہے آخری عمر میں جسم کمزور ہو جاتا ہے گھنٹوں تہجد کی نماز پڑھتے ، پنڈلیاں متورم ہو جاتیں۔تو پہلے تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر میری مغفرت نہیں اس موقع پر کہا گیا اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور کہہ دیا آپ کو مغفرت مل گئی۔تو پھر کیا ضرورت ہے اتنی لمبی نمازیں پڑھنے کی۔تو آپ نے فرمایا کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔یہ ایک عجیب زندگی ہے لیکن وہ استعداد تو ہم میں نہیں یہ تو درست ہے لیکن جتنی بھی ہماری استعداد ہے اس میں آپ کو ہمارے لئے اسوہ حسنہ بنایا گیا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اسوہ حسنہ کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کی ساری عمرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جیسی بن سکتی ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ یہ ہے کہ آپ نے اتنی محنت کی کہ اپنی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتوں اور صلاحیتوں اور استعدادوں کو اپنے کمال تک پہنچا دیا۔جس کی جتنی استعداد اور صلاحیت ہے اس کے مطابق وہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو کمال تک پہنچائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پورا ہو جائے گا۔ہر شخص کا دائرہ استعداد مختلف ہے لیکن ہر دائرہ استعداد میں جتنی بھی استعداد ہے اس کو کمال تک پہنچنا چاہیے اس کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اُسوہ حسنہ ہے۔پھر صحابہ کی زندگی ہے۔اس میں بھی کوئی تضاد نہیں ہے جب تضاد نہ ہو تو تکلف نہیں ہوتا۔اس دنیا کی زندگی میں یہ جو تکلف ہے اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ کہلوایا گیا کہ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (ص: ۸۷) فرمایا میری روح اور میری زندگی میں تکلف نہیں پایا جاتا کیونکہ تکلف تضاد ہے۔ایک شخص کے پاس مہمان آیا اس کی توفیق ہے دال کھلانے کی اور اُس نے مرغا تلاش کرنا شروع کر دیا تو یہ تکلف ہے اور ہر تکلف تضاد ہوتا ہے۔زمینداروں کی عام طور پر عادت ہوتی ہے کہ کھلانا مرغا ہے چاہے دو پہر کا کھانا رات کو کھلائیں۔ایک دو دفعہ ہمیں بھی اس کا تجربہ ہوا ہے۔ویسے تو عادتیں مختلف ہوتی ہیں لیکن مجھے جس وقت کھانا کھانے کی عادت ہے اس وقت میں روکھی روٹی پانی سے کھالوں