خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 70
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۳ء کسی کنوئیں پر پانچ ہزار روپے سے زیادہ خرچ نہیں کیا جاسکتا۔جب آپ کو دنیا کے خزانے مل جائیں گے تو آپ پچاسی ہزار کی بجائے پچاسی لاکھ خرچ کریں گے تو اس سے آپ کو کوئی نہیں رو کے گالیکن آج کے حالات میں اصل زور ہاتھ سے کام کرنے پر ہے ہمارا دل کرتا ہے کہ جماعت بحیثیت مجموعی بھی ان کی اس کوشش میں شامل ہو اس لئے اگر یہ محلہ پانچ ہزار روپے اکٹھے نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے بجلی کا پمپ خرید نے یا بورنگ پر خرچ کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے تو چار پانچ ہزار روپیہ ہم دے دیں گے۔تا کہ یہ محلہ پانی کے لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔الف محلے میں پانی بھی بہت اچھا ہے ان کو میں نے کہا ہے کہ پہلے مجھے موقع دکھاؤ پھر سکیم اور اس پر اخراجات کا اندازہ میں خود لگاؤں گا۔سر دست پانچ ہزار سے زیادہ خرچ کرنے کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔باقی جو ضرورتیں ہیں وہ آہستہ آہستہ پوری ہوتی رہیں گی۔۱۹۴۷ء کے بعد گویا پچھلے ۲۴ - ۲۵ برس میں تو یہ ضرورت بھی پوری نہیں ہوئی تھی۔اب ایک کام شروع ہوا ہے تو پہلے دن ہی جماعت پر مستقبل کا بوجھ نہ ڈالیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ تیسر امحلہ بھی اس سکیم میں شامل ہوا ہے اور وہ محلہ دارالصدرغربی ( حلقہ مسجد قمر ) ہے جس نے اس کام کے لئے جو تخمینہ لگا یا وہ نو ہزار روپے کا تھا۔( میں ) سمجھتا ہوں نو ہزار روپے کی ابھی وہاں ضرورت نہیں ہے۔میں نے یہ اصول بنادیا ہے کہ جماعت پانچ ہزار روپے تک امداد کرے گی اس کے علاوہ جو خرچ ہے وہ محلہ اپنے ہاتھ کی محنت سے یا آپس میں مل کر حسب توفیق چندہ جمع کر لے، ہم پانچ ہزار تک دیں گے لیکن ایسی سکیم نہیں بننے دیں گے جس میں اسراف پایا جائے اس گناہ میں ہم ملوث نہیں ہوں گے۔اسراف گناہ ہے جس میں جماعت ملوث نہیں ہونا چاہتی۔پس دار العلوم کو پانی مل جائے گا محلہ الف میں بھی انشاء اللہ انتظام ہو جائے گا۔آخری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے جماعت کو ہاتھ سے کام کر کے پیسے بچانے چاہئیں اس میں بڑی برکت ہوتی ہے۔آپ جانتے ہیں ان دنوں پریس کی عمارت زیر تعمیر ہے اس میں ۶۰×۰۰ افٹ کا دو منزلہ ہال ہے۔اس کی منزل سطح زمین سے نیچے ہے۔اس کا کچھ حصہ او پر آئے گا اس پہلی منزل کی کھدائی کا آٹھ دس ہزار روپے کا اندازہ لگایا گیا تو میں